
ریاستی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ایمرجنسی روم پہنچے وزیرِ اعلیٰ، ریاست میں سیلاب کی صورتِ حال کا جائزہ لیابھوپال، 11 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ تین دنوں سے مسلسل جاری موصلادھار بارش کے باعث کئی اضلاع میں سیلابی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے اور عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ندیاں اور نالے طغیانی پر ہیں، جس کے باعث متعدد دیہات کا شہروں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ بارش اور سیلاب کے بیچ عام شہریوں کو راحت پہنچانے کا کام بھی مسلسل جاری ہے۔ حکام کے مطابق، امدادی ٹیموں نے اب تک 527 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے ان کی جان بچائی ہے۔ادھر، وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے منگل کے روز بھوپال میں واقع ریاستی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ایمرجنسی روم پہنچ کر ریاست میں شدید بارش، پانی کے جمع ہونے اور سیلابی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے اور سیلاب سے شہریوں کو بچانے کے لیے چلائی جانے والی مہمات کی معلومات حاصل کی نیز متاثرین، امدادی کاموں میں مصروف ملازمین اور مقامی لوگوں سے ورچوئل بات چیت کی۔ اس موقع پر ایمرجنسی روم میں ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے شکلا، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کیلاش مکوانا اور ہوم گارڈ ڈائریکٹر پرگیا رچا موجود تھیں۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ایس ڈی آر ایف، پولیس اور ہوم گارڈ کی بروقت اور فوری کارروائی کے نتیجے میں 527 افراد کی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ یہ پولیس اور ہوم گارڈ کے شعبے کی کارکردگی اور جذبۂ خدمت کی بہترین مثال ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے بچاو کے کاموں میں پیش پیش مقامی شہریوں کی پہل قدمی کی بھی بھرپور ستائش کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انسانی جانیں بچانے والے بہادروں کو اعزاز و انعام دینے کا انتظام کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کے تمام متاثرہ مقامات پر شب و روز امدادی مہمات جاری ہیں۔ پولیس و انتظامیہ کی جانب سے تمام ضرورت مندوں کے لیے طعام و قیام کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ ضلع سطح پر پولیس اور انتظامیہ کو باہمی ربط و ضبط سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر پڑوسی اضلاع کی مدد بھی لی جا رہی ہے، جبکہ ہنگامی حالات میں ایئر ایمبولینس کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔وزیرِ اعلیٰ نے ضلع حکام کو اس ناگہانی آفت کے دوران مکمل ہوشیاری، صلاحیت، حساسیت اور صبر و تحمل کے ساتھ فرائض انجام دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ڈویژن اور ریاستی سطح سے رابطہ قائم کر کے مدد حاصل کی جائے۔ انہوں نے شدید بارش اور سیلابی صورتِ حال میں ہر ممکن احتیاط برتنے کی تاکید کی اور ہدایت دی کہ ندی نالوں یا پلیا پر پانی کا بہاؤ ہونے کی صورت میں گاڑیوں کو ہرگز نہ گزرنے دیا جائے۔ انہوں نے ایمرجنسی روم سے ہی راج گڑھ، سیہور، آگر مالوا، ودیشا اور کھنڈوا میں جاری امدادی کاموں کا ورچوئل معائنہ بھی کیا۔دارالحکومت بھوپال میں دو دنوں کے دوران 8 انچ بارش درج کی جا چکی ہے، جس کے پیشِ نظر منگل کو تمام اسکول بند رہے۔ شہر کے تقریباً 200 مکانات میں ڈھائی فٹ تک پانی بھر گیا۔ کئی مقامات پر ٹرانسفارمرز اور ڈسٹری بیوشن باکسز پانی میں ڈوبنے کے باعث حادثات سے بچاو کے لیے بجلی کی فراہمی معطل کرنی پڑی۔محکمہ موسمیات بھوپال سے حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راج گڑھ کے بیاورا میں 9 انچ، کھلچی پور میں 8 انچ، جیرا پور میں 7.7 انچ، راج گڑھ شہر میں 4.4 انچ، نرسنگھ پور میں 3.7 انچ، پچھور میں 3.7 انچ اور سارنگ پور میں 3.6 انچ بارش ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح آگر-مالوا کے سوئت کلاں میں 7.7 انچ اور آگر شہر میں 3.6 انچ بارش ہوئی۔ شاجاپور کے گلانہ میں 3.8 انچ، گونا کے کنبھراج میں 3.7 انچ، شاجاپور شہر میں 3.4 انچ، مندسور کے گروٹھ میں 2.7 انچ جبکہ اجین کے مہیدپور اور ماکڑون میں ڈھائی انچ بارش ہوئی۔نربدا پورم میں مسلسل بارش کی وجہ سے نرمدا ندی کی سطح میں 9.6 فٹ اور توا ڈیم کی سطحِ آب میں 8.5 فٹ کا اضافہ درج ہوا ہے۔ رائسین میں سانچی روڈ پر واقع پگنیشور اور بھوپال روڈ پر جاکھا کے مقام پر بیتوا ندی کا جل سطح بڑھنے سے چھوٹے پل زیرِ آب آ گئے۔ ضلع کے تمام اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ سیمرا کے پی ایم شری ہائی اسکول کے احاطے میں کمر تک پانی بھر گیا۔ سیہور میں بھیلاکھیڑی ندی کے نزدیک ایک مکان میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد محصور ہو کر رہ گئے، جنہیں پولیس نے دیہاتیوں کی مدد سے محفوظ باہر نکالا۔ کھرگون میں مسلسل بارش کے باعث اپرویدا ڈیم کے دو گیٹ ڈیڑھ ڈیڑھ میٹر کھول دیے گئے ہیں اور ضلع کے 24 دیہات میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔مسلسل بارش سے ریاست کے ڈیموں اور تالابوں کی سطحِ آب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھوپال کے بڑے تالاب میں ایک ہی دن میں تقریباً پون فٹ پانی بڑھ کر سطح 1663 فٹ تک جا پہنچی ہے۔ نرمدا ندی میں طغیانی کے باعث اندرا ساگر اور اونکاریشور ڈیموں کا سطح آب بھی بڑھ گیا ہے، جبکہ امریا کے جوہیلا اور آگر-مالوا کے کنڈالیہ ڈیم سے زائد پانی کا اخراج کیا جا رہا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن