
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں منگل کے روز کیرالہ ریاست کا نام تبدیل کرکے کیرلم رکھنے سے متعلق بل ہنگامے کے درمیان بغیر کسی بحث کے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے آج ایوان میں شور و غل کے درمیان کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل، 2026 بحث کے لیے پیش کیا اور مختصر جواب بھی دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بل کی منظوری کے بعد کانگریس کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کی۔ دوسری جانب وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے بل منظور ہونے کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال کو بل پر اظہارِ خیال کا موقع نہیں مل سکا۔
قابلِ ذکر ہے کہ لوک سبھا میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری تعطل آج بھی برقرار رہا۔ شور شرابے کے درمیان حکومت دونوں ایوانوں میں مسلسل کچھ ضروری قانون سازی کا کام مکمل کرا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آج کیرالہ ریاست کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بل بھی بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا۔
ملیالم زبان میں ریاست کو روایتی طور پر ’کیرلم‘ ہی کہا جاتا ہے۔ یہ بل اسی ثقافتی شناخت کو سرکاری حیثیت دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس کے تحت بھارتی آئین کی پہلی فہرست میں ضروری ترمیم کی جائے گی۔ نام کی تبدیلی کے ساتھ ریاست سے متعلق دیگر آئینی اور انتظامی دستاویزات میں بھی ضروری نتیجہ خیز ترامیم کی جائیں گی۔
کیرالہ اسمبلی نے 24 جون 2024 کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں مرکزی حکومت سے ریاست کا نام تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت ضروری اقدامات کرتے ہوئے پہلی فہرست میں ترمیم کی جائے اور ریاست کا نام ’کیرالہ‘ سے بدل کر ’کیرلم‘ کیا جائے۔
آئین کے آرٹیکل 3 کی دفعات کے تحت صدرِ جمہوریہ نے اس بل کو کیرالہ کی ریاستی مقننہ کے پاس اس کی رائے حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ کیرالہ اسمبلی نے ’کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل، 2026‘ پر تفصیلی غور و خوض کیا اور اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد