لوک سبھا میں این سی ڈی سی کے دائرۂ اختیار کو وسیع کرنے والا بل منظور
لوک سبھا میں این سی ڈی سی کے دائرۂ اختیار کو وسیع کرنے والا بل منظور نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا نے منگل کو کوآپریٹو سوسائٹیوں کو براہِ راست قرض اور گرانٹ دینے کے لیے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے دائرۂ اختیار کو
لوک سبھا فائل فوٹو


لوک سبھا میں این سی ڈی سی کے دائرۂ اختیار کو وسیع کرنے والا بل منظور

نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔

لوک سبھا نے منگل کو کوآپریٹو سوسائٹیوں کو براہِ راست قرض اور گرانٹ دینے کے لیے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے دائرۂ اختیار کو وسیع کرنے والے بل کو شور شرابے کے درمیان بغیر کسی بحث کے منظور کر دیا۔

وزیر مملکت برائے تعاون مرلیدھر موہول نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیم) بل، 2026 کو غور و خوض اور منظوری کے لیے آج پیش کیا۔ این سی ڈی سی وزارت تعاون کے تحت ایک آئینی ادارہ ہے۔ این سی ڈی سی کا قیام 1963 میں نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن ایکٹ، 1962 کے تحت کیا گیا تھا۔

بل کے بارے میں وزیر مرلیدھر موہول نے کہا کہ کوآپریٹو سوسائٹی یا کوآپریٹو شعبے کی ترقی سے متعلق اہل اداروں کو ضروری ضمانت لے کر براہِ راست قرض اور گرانٹ فراہم کرنے کے ضوابط بنائے گئے ہیں۔ فوڈ پروسیسنگ، کاٹیج انڈسٹری، دستکاری اور دیگر صنعتی شعبوں کی کوآپریٹو تنظیموں کو بھی مالی امداد کا موقع ملے گا۔ مرکزی حکومت کی پیشگی منظوری سے متعلقہ اداروں کے شیئر کیپیٹل میں شراکت داری کا ضابطہ بھی مجوزہ ہے۔ بل میں حکومت سے کسی اضافی بجٹ کی امداد کی تجویز نہیں ہے۔ اس کا مقصد این سی ڈی سی کے موجودہ آئینی اور مالیاتی دائرے کو وسعت دینا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ ضوابط کی وجہ سے کوآپریٹو شعبے کی ترقی میں کام کر رہی لیکن کوآپریٹو سوسائٹی کے طور پر رجسٹرڈ نہ ہونے والی تنظیموں کو این سی ڈی سی براہِ راست مالی امداد نہیں دے پاتا تھا، ایسے کئی تجاویز ریاستی حکومت یا کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ذریعے بھیجنے پڑتے ہیں، جس سے عمل میں تاخیر ہوتی ہے اور امداد کا دائرہ محدود رہتا ہے۔ مجوزہ این سی ڈی سی ترمیمی بل، 2026 میں اس صورتِ حال کو بدلنے کا ضابطہ بنایا گیا ہے۔

موہول نے کہا کہ مجوزہ بل میں دفعہ 13 اے کے تحت این سی ڈی سی کو ریزرو بینک آف انڈیا، بینکنگ کمپنیوں اور نوٹیفائیڈ مالیاتی اداروں کے ساتھ قرض سے متعلق معلومات کے تبادلے کا اختیار دینے کا ضابطہ ہے۔ اس کے علاوہ غیر متعلقہ ضوابط کو ہٹانے اور متعلقہ قوانین کے موجودہ تناظر کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔

موجودہ حکومت میں کوآپریٹو شعبے پر خصوصی توجہ دینے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ گزشتہ 12 سالوں میں این سی ڈی سی کے ذریعے کی گئی تقسیم میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1963 سے 2014 تک این سی ڈی سی کے ذریعے تقریباً 45 ہزار کروڑ روپے تقسیم کیے گئے تھے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ملک میں تقریباً آٹھ لاکھ کوآپریٹو سوسائٹیاں 30 مختلف شعبوں میں کوآپریٹو سرگرمیاں چلا رہی ہیں۔ اس کے تقریباً 30 کروڑ اراکین ہیں۔ نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کا قیام 1962 کے ایکٹ کے تحت ملک میں کوآپریٹو شعبے کی منظم اور بروقت ترقی کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کے مقصد سے ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کا کام کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ذریعے زرعی پیداوار، خوراک، صنعتی پیداوار، مویشی پروری اور متعلقہ خدمات تک محدود تھا۔ بعد میں پروسیسنگ، مارکیٹنگ، اسٹوریج، برآمدات اور درآمدات سے جڑی اسکیموں کو بھی اس کے دائرے میں شامل کیا گیا۔ حالیہ سالوں میں انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کے شعبے میں بھی این سی ڈی سی کا کردار بڑھا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande