
پونے، 11 اگست (ہ س): قدرتی آفات، بیماری، زہر خورانی، سانپ کے کاٹنے، حادثات اور لمپی اسکن ڈیزیز اور گھٹسرپ جیسی متعدی بیماریوں سے مویشیوں کی موت کی صورت میں کسانوں کو ہونے والے مالی نقصان سے بچانے کے لیے ریاستی حکومت نے قومی مویشی مشن کے تحت مویشی بیمہ اسکیم نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت صرف 450 روپے کے پریمیم میں دودھ دینے والی گائے کو 70 ہزار روپے تک کا بیمہ تحفظ حاصل ہوگا۔
محکمہ افزائش مویشیان، ڈیری ترقی اور ماہی گیری نے 5 اگست کے حکومتی فیصلے کے ذریعے اسکیم کو انتظامی اور مالی منظوری دی ہے۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنر برائے افزائش مویشیان ڈاکٹر راج کمار پڈیلے نے بتایا کہ اسکیم کے ذریعے مویشی پال کسانوں کے جانوروں کو بیمہ تحفظ فراہم کیا جاسکے گا۔اس اسکیم کا مقصد مویشیوں کی موت کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے کسانوں کو بچانا اور انہیں قرض کے بوجھ میں جانے سے روکنا ہے۔ ریاست میں اسکیم پر عمل درآمد ناگپور میں قائم مہاراشٹر لائیو اسٹاک ڈیولپمنٹ بورڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔
ڈاکٹر پڈیلے کے مطابق ٹینڈر کے عمل کے ذریعے ایگریکلچر انشورنس کمپنی آف انڈیا کو اسکیم کے لیے بیمہ کمپنی منتخب کیا گیا ہے۔ کمپنی مقررہ شرائط کے مطابق اہل مویشیوں کو بیمہ تحفظ فراہم کرے گی۔اسکیم میں دیسی اور مخلوط نسل کی دودھ دینے والی گائیں، بھینسیں، بیل، بھینسے، بکریاں اور بھیڑیں شامل ہیں۔ ہر خاندان زیادہ سے زیادہ 10 مویشیوں کے لیے بیمہ تحفظ حاصل کرسکے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے