(اپ ڈیٹ) جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی معاملے پر جھارکھنڈ اسمبلی میں ہنگامہ، کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی
رانچی، 11 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں منگل کو جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات کو لے کر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ہنگامہ ہوا۔ دوسری نشست میں ایوان کی کارروائی دوپہر 2
(اپ ڈیٹ) جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی معاملے پر جھارکھنڈ اسمبلی میں ہنگامہ، کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی


رانچی، 11 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں منگل کو جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات کو لے کر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ہنگامہ ہوا۔ دوسری نشست میں ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بج کر 6 منٹ پر شروع ہوتے ہی اقتدار اور اپوزیشن کے ارکان آمنے سامنے آ گئے۔ شدید نوک جھونک اور نعرے بازی کے درمیان اسمبلی اسپیکر رویندر ناتھ مہتو نے دوپہر 2 بج کر 28 منٹ پر ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

اس سے پہلے ایوان کی پہلی نشست بھی طلبہ تحریک کے معاملے پر ہنگامے کی نذر ہو گئی۔ صبح 11 بجے کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور ان کے مطالبات کو لے کر نعرے بازی شروع کر دی۔ ہنگامہ بڑھنے پر اسمبلی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیل میں پہنچ گئے۔ حکمراں جماعت کے ارکان نے اپوزیشن کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ اپوزیشن اراکین اسمبلی نے ریاستی حکومت پر طلبہ پر لاٹھی چارج کرانے کا الزام لگایا۔ اپوزیشن ارکان نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے طلبہ پر جان بوجھ کر لاٹھیاں برسائیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے مطالبات کو لے کر پُرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے۔

ہنگامے کے درمیان اسمبلی اسپیکر نے وقفہ صفر کی تمام اطلاعات کو پڑھا ہوا مانتے ہوئے انہیں متعلقہ محکموں کو بھیجنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

دوسری نشست میں کارروائی شروع ہوتے ہی ایک بار پھر جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی معاملے کو لے کر ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اپوزیشن ارکان امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور طلبہ کے مطالبات پر حکومت سے جواب اور کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ حکمراں جماعت کی جانب سے بھی اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیا گیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان نعرے بازی اور شدید نوک جھونک کے باعث ایوان کا ماحول گرم رہا۔

اپوزیشن طویل عرصے سے جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کرانے اور طلبہ کے مطالبات پر حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔

منگل کو بھی اسی معاملے کو لے کر اسمبلی کی کارروائی مسلسل متاثر ہوئی اور آخرکار دوسری نشست میں اسمبلی اسپیکر نے ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

قابل ذکر ہے کہ پیر کو جھارکھنڈ اسمبلی کی کارروائی اپوزیشن کی غیر موجودگی میں چلی تھی۔ اس دوران مالی سال 27-2026 کے لیے 8,399 کروڑ 31 لاکھ 11 ہزار روپے کا ضمنی بجٹ منظور کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande