
رانچی، 11 اگست (ہ س)۔
جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) کے امیدواروں کی جانب سے اسمبلی گھیراؤ کے دوران پولیس کارروائی اور مبینہ لاٹھی چارج کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بلائے گئے جھارکھنڈ بند کا منگل کو راجدھانی رانچی سمیت ریاست کے مختلف اضلاع میں صبح سے ہی وسیع پیمانے اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بند کی حمایت میں بی جے پی رہنما اور کارکن سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں۔
راجدھانی رانچی میں کئی مقامات پر مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر اور لکڑیاں جلا کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ راتو روڈ، کشور گنج چوک اور ہرمو چوک پر بی جے پی کارکنوں نے ٹائر اور لکڑیاں جلا کر سڑک کی ایک لین کو بند کردیا، جس کے باعث ان علاقوں میں ٹریفک متاثر ہوئی۔ہرمو چوک پر کچھ کارکن جے سی بی مشین پر چڑھ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ وہیں کشور گنج چوک پر بھی کارکنوں نے ٹائر اور لکڑیاں جلا کر احتجاج کیا۔بند کے باعث راجدھانی میں معمول کے دنوں کے مقابلے سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت کم نظر آئی۔ کئی اہم راستوں پر صبح سے جاری احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر رہا۔
دوسری جانب جھارکھنڈ بند کے پیش نظر راجدھانی رانچی میں سکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ شہر کے حساس علاقوں، اہم چوراہوں اور ممکنہ احتجاجی مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔پولیس انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
بی جے پی نے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امیدواروں کے اسمبلی گھیراؤ کے دوران ہوئی پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تحریک کو دبانے کے بجائے حکومت کو ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan