ہندوستان-امریکہ خلائی تعاون کو ملے گی نئی رفتار، بنگلورو میں ہوئی 9ویں سی ایس جے ڈبلیو جی میٹنگ
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سویلین اسپیس تعاون کو اور مضبوط کرنے کے مقصد سے ہندوستان-امریکہ سویلین اسپیس جوائنٹ ورکنگ گروپ (سی ایس جے ڈبلیو جی) کی 9ویں میٹنگ گزشتہ 5 اور 6 اگست کو بنگلورو میں واقع انڈین اسپیس ریسرچ آرگنا
علامتی تصویر


نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سویلین اسپیس تعاون کو اور مضبوط کرنے کے مقصد سے ہندوستان-امریکہ سویلین اسپیس جوائنٹ ورکنگ گروپ (سی ایس جے ڈبلیو جی) کی 9ویں میٹنگ گزشتہ 5 اور 6 اگست کو بنگلورو میں واقع انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد کی گئی۔ میٹنگ کی میزبانی ہندوستان نے کی۔

افتتاحی سیشن سے اسرو کے چیئرمین اور خلائی شعبے کے سکریٹری ڈاکٹر وی نارائنن نیز ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے خطاب کیا۔ دونوں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون کو اور وسیع بنانے نیز اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

میٹنگ کی شریک صدارت ہندوستانی فریق سے اسرو کے یو آر راؤ سیٹلائٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ایم شنکرن نے کی۔ امریکی فریق کی نمائندگی سمندروں، بین الاقوامی ماحولیات اور سائنسی امور کے اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ ڈاکٹر ویسلے بروکس نیز ناسا کی انٹرنیشنل اینڈ انٹر ایجنسی ریلیشنز کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کیتھلین کاریکا نے کی۔

میٹنگ میں دونوں ملکوں نے گزشتہ سال کامیاب رہے مشترکہ ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر راڈار (نیسار) مشن کے بعد خلائی تعاون کے نئے شعبوں پر بات چیت کی۔ دونوں فریقوں نے مستقبل میں خلائی سائنس اور انسانی خلائی پرواز سے جڑی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا۔

یہ میٹنگ فروری 2025 میں وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ رہنماوں کے بیان کے مطابق ’یو ایس-انڈیا اسٹریٹجک ٹیکنالوجی یوٹیلائزیشن ریلیشن شپ‘ (ٹرسٹ) پہل کے تحت سویلین اور کمرشل اسپیس تعاون کو آگے بڑھانے کی سمت میں اہم قدم مانا جا رہی ہے۔

میٹنگ کے دوران ناسا نے آرٹیمس معاہدے کے تحت ہندوستان کی شراکت داری کو اور آگے بڑھانے کی سمت میں اسرو کو اپنے مون بیس پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ دونوں ملکوں نے آرٹیمس معاہدے کے تحت کھلے سائنسی ڈیٹا کے مشترکہ استعمال اور تبادلے کو لے کر بات چیت آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سے مستقبل کی قمری مہمات اور خلائی سائنس سے جڑی تحقیق میں دونوں ملکوں کے سائنسدانوں کے درمیان تعاون کو فروغ ملنے کی امید ہے۔

میٹنگ میں ہندوستان اور امریکہ نے بیرونی خلائی سرگرمیوں کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی آن دی پیس فل یوزیز آف آؤٹر اسپیس (سی او پی یو او ایس) کے رہنما خطوط کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کو دہرایا۔ دونوں فریقوں نے سی او پی یو او ایس کی افادیت کو برقرار رکھنے کے لیے جاری کثیر جہتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خلا کے پرامن اور پائیدار استعمال کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا یہ خلائی تعاون نہ صرف سائنسی تحقیق اور انسانی خلائی پرواز کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، بلکہ قمری دریافت، زمین کے مشاہدے اور خلا کی طویل مدتی پائیداری جیسے شعبوں میں دونوں ملکوں کی اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی سمت دے سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande