
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ ساون کے آغاز کے ساتھ ہی دہلی۔این سی آر کے موسم میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے مسلسل ہلکی اور درمیانی بارش نے دہلی کے لوگوں کو حبس بھری گرمی سے راحت تو پہنچائی ہے، لیکن دوسری جانب عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
آج صبح سے جاری ہلکی بارش کے درمیان محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے آئندہ چند دنوں میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق دارالحکومت میں مسلسل بادلوں کی آمدورفت اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا ہے۔
مسلسل بارش کے باعث دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے۔ سڑکوں پر پانی بھرنے کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے والوں کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بارش اور آبی جماؤ کا سب سے زیادہ اور براہ راست اثر دہلی-این سی آر کی ٹریفک نظام پر پڑا ہے۔ بارش شروع ہوتے ہی اہم چوراہوں اور مصروف سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار تھم جاتی ہے اور طویل ٹریفک جام معمول بن جاتا ہے۔
دفتر سے گھر واپس جانے والے ملازمین کو جہاں عام دنوں میں ایک سے دو گھنٹے کا وقت لگتا تھا، وہیں اب پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام کے باعث 3 سے 4 گھنٹے کا طویل اور تھکا دینے والا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔آئی ٹی او، دھولا کنواں، آشرم، گڑگاؤں-دہلی ایکسپریس وے اور غازی آباد کو جوڑنے والی اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں عام منظر بن چکی ہیں۔شہریوں کو ٹریفک جام کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ بارش کے دوران کیب اور آٹو رکشا ملنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ایپ پر مبنی کیب ایگریگیٹرز کی جانب سے سرچارج یا ڈائنامک پرائسنگ کے باعث مسافروں سے کئی مرتبہ معمول سے دگنا تک کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔
کرایوں میں اس اضافے سے عام آدمی کی جیب پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس پوری صورتحال کے باعث روزانہ سفر کرنے والے افراد کو ذہنی دباؤ اور طویل سفر کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دہلی-این سی آر میں مانسون اور ساون کے دوران پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ ہر سال معمولی بارش کے بعد ہی شہر کے کئی علاقوں میں پانی کی نکاسی کا نظام متاثر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو آمدورفت سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan