کولہان میں نکسل مخالف مہم میں بڑی کامیابی، چار ہارڈ کور نکسلیوں نے ہتھیار ڈالے
مغربی سنگھ بھوم، 11 اگست (ہ س) ۔جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع میں نکسل مخالف مہم کو منگل کو ایک بڑی کامیابی ملی۔چائباسا میں واقع کولہان پولیس ہیڈکوارٹر میں جھارکھنڈ حکومت کی عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی سے متاثر ہو کر چ
FOUR-HARDCORE-NAXALS-SURRENDER


مغربی سنگھ بھوم، 11 اگست (ہ س) ۔جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع میں نکسل مخالف مہم کو منگل کو ایک بڑی کامیابی ملی۔چائباسا میں واقع کولہان پولیس ہیڈکوارٹر میں جھارکھنڈ حکومت کی عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی سے متاثر ہو کر چار ہارڈ کور نکسلائیٹس نے اپنے ہتھیار پولیس اور مرکزی سیکورٹی فورسز کے حوالے کرکے مرکزی دھارے میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں میں دس لاکھ روپے کا انعامی زونل کمانڈر سالوکا کیام عرف بھونیشور، ایک لاکھ روپے کے انعامی کودومنی کوڑا، انیتا تامسوئے عرف انیتا کیام اور پنکی شامل ہیں۔ خودسپردگی کے دوران نکسلیوں نے اپنے پاس موجود ہتھیار، گولہ بارود، اور نکسلی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والا دیگر سامان پولیس کے حوالے کر دیا۔

پروگرام کے دوران کولہان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انورنجن کسٹوپا، سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) چائباسا کے ڈی آئی جی، مغربی سنگھ بھوم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) امت رینو، سرائیکیلا-کھرساواں کے ایس پی منوج سورگیاری کے ساتھ ساتھ دونوں اضلاع کے پولیس افسران اور مرکزی سیکورٹی فورسز کے افسران موجود تھے۔

پولیس نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں کولہان علاقے میں 75 نکسلیوں نے خودسپردگی کی ہے۔ اس کے علاوہ کئی سرکردہ نکسلیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ کچھ انکاو¿نٹر میں مارے گئے ہیں۔ مسیر بسرا سمیت کئی ہارڈ کور نکسلائیٹس کی گرفتاری کو نکسلی تنظیم کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔

کولہان خطہ تقریباً تین دہائیوں سے نکسلیوں کے خطرے سے متاثر ہے۔ نکسلی تنظیمیں طویل عرصے سے مغربی سنگھ بھوم کے گھنے جنگلات اور ناقابل رسائی علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔ اس دوران نکسلی تشدد میں پو لیس اور مرکزی سیکورٹی فورسز کے متعدد افسران اور جوان شہید ہوچکے ہیں۔

سیکورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیوں، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورکس، اور دیہی علاقوں میں پولیس کی بڑھتی ہوئی رسائی کی وجہ سے، علاقے میں نکسلائیٹ تنظیم کا اثر و رسوخ مسلسل سمت رہا ہے۔ سیکورٹی فورسز بھی ہتھیار ڈالنے والے نکسلائٹس کی تعداد میں اضافے کو نکسل مخالف مہم کی ایک اہم کامیابی مانتی ہیں۔

کولہان ڈی آئی جی انورنجن کسٹوپا نے چار نکسلیوں کے ہتھیار ڈالنے کو نکسل مخالف مہم میں ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے آپریشن میں تعاون کرنے والے مرکزی ایجنسیوں، سیکورٹی فورسز اور پولیس افسران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نکسل تشدد کے دوران شہید ہونے والے فوجیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ جو نکسلائیٹس ابھی تک تنظیم میں سرگرم ہیں انہیں اپنے ہتھیار چھوڑ دینا چاہئے اور حکومت کی خودسپردگی اور باز آبادکاری کی پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکزی دھارے میں واپس آنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال اسیم منڈل کا دستہ خاص طور پر علاقے میں سرگرمبچا ہے۔ سکیورٹی فورسز اس کی گرفتاری کے لیے مسلسل آپریشن چلا رہی ہیں۔ ڈی آئی جی نے اسیم منڈل اور ان کے دستے میں شامل نکسلیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے ہتھیار چھوڑ یں، مرکزی دھارے میں واپس آئیں اور حکومت کی باز آبادکاری پالیسی کا فائدہ اٹھائیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande