جموں: آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی اعلیٰ سول اور پولیس افسران سے ملاقات
آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی اعلیٰ سول اور پولیس افسران سے ملاقات جموں، 11 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت کی جانب سے آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے جموں میں اعلیٰ سول اور پولیس افسران
Committee


آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی اعلیٰ سول اور پولیس افسران سے ملاقات

جموں، 11 اگست (ہ س)۔

مرکزی حکومت کی جانب سے آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے جموں میں اعلیٰ سول اور پولیس افسران کے ساتھ ملاقات کرکے خطے میں آبادیاتی رجحانات، نقل مکانی اور غیر ملکی شہریوں کی مبینہ آبادکاری سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا۔جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں کمیٹی جموں و کشمیر کے تین روزہ دورے پر ہے۔ اجلاس کے دوران حکام نے کمیٹی کو جموں کے مختلف علاقوں میں میانمار سے تعلق رکھنے والے روہنگیا افراد اور مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی، ان کی آبادکاری کے عرصے، موجودہ صورتحال اور انتظامیہ و سلامتی کے اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ ملاقات میں چیف سکریٹری اٹل ڈلو، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات، پرنسپل سکریٹری ہوم چندرکر بھارتی، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کماراورآئی جی پی بی ایس توتی سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔

حکام نے بتایا کہ جموں میں روہنگیا افراد کی مزید آمد کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ سلامتی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کسی بھی نئی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کا معاملہ بھی اجلاس میں زیرِ بحث آیا، خصوصاً بانہال میں حال ہی میں حراست میں لیے گئے 21 بنگلہ دیشی شہریوں کے معاملے پر کمیٹی کو تفصیلات فراہم کی گئیں۔

کمیٹی اپنے زمینی جائزے کے دوران قاسم نگر، مرلیاں، جگتی اور دیگر علاقوں کا دورہ کرے گی جہاں روہنگیا آبادیوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ بعض سرحدی علاقوں کا دورہ کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ کمیٹی سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افراد سے بھی ملاقات کر سکتی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی یہ کمیٹی ملک کے مختلف حصوں میں آبادیاتی تبدیلیوں، غیر قانونی نقل مکانی اور غیر معمولی آبادیاتی رجحانات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی ان تبدیلیوں کے سماجی، اقتصادی، انتظامی اور سلامتی سے متعلق اثرات کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ کو پالیسی، قانونی اور انتظامی اقدامات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔کمیٹی کو ایک سال کی مدت دی گئی ہے، جس میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ جموں و کشمیر کے بعد کمیٹی مغربی بنگال، آسام، شمال مشرقی ریاستوں اور ملک کے دیگر حصوں کا بھی دورہ کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande