
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔
دہلی میں سرکاری ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) کے مؤثر استعمال سے سرکاری خریداری کا عمل اب زیادہ ڈیجیٹل، آسان اور شفاف ہوگیا ہے۔ اس کے ذریعے چھوٹے کاروباریوں اور صنعت کاروں کو سرکاری خریداری سے جڑنے کے لیے ایک وسیع اور یکساں ڈیجیٹل بازار دستیاب ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ایم ایس ایم ای صرف کاروبار کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، اختراع اور مقامی معیشت کی مضبوط بنیاد ہیں۔ سرکاری خریداری کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانے سے چھوٹے کاروباریوں کو بڑے ادارہ جاتی بازار تک رسائی کا موقع مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ای ایم کے ذریعے بڑھتی ہوئی خریداری، ایم ایس ایم ای کی بڑھتی شراکت داری، خواتین صنعت کاروں اور اسٹارٹ اپس کے لیے پیدا ہونے والے مواقع اور دہلی کے کاروباریوں کو ملک بھر سے ملنے والے آرڈرز ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
دہلی میں سرکاری خریداری میں جی ای ایم کے بڑھتے استعمال اور خدمات کی خریداری میں مسلسل اضافے کے پیش نظر دہلی کو ’سسٹینڈ سروسز پروکیورمنٹ ایڈاپشن‘ زمرے میں اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز جی ای ایم کے ذریعے خدمات کی خریداری میں دہلی کی بڑھتی شراکت داری کے اعتراف میں دیا گیا۔
جی ای ایم کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 میں جولائی تک دہلی میں 1,595 کروڑ روپے کی خریداری درج کی گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 624 کروڑ روپے کے مقابلے میں 156 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں دہلی میں جی ای ایم کے ذریعے مجموعی طور پر 4,311 کروڑ روپے کی سرکاری خریداری ہوئی، جو 2024-25 کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں ایم ایس ای سے تقریباً 2,177 کروڑ روپے کی خریداری شامل رہی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مالی سال 2021-22 میں ایم ایس ای سے تقریباً 965 کروڑ روپے کی خریداری ہوئی تھی، جو 2025-26 میں بڑھ کر 2,177 کروڑ روپے ہوگئی۔ گزشتہ مالی سال دہلی کے فروخت کنندگان کو تقریباً 95 فیصد آرڈر مرکزی حکومت اور دیگر ریاستوں کے خریداروں سے موصول ہوئے۔
خواتین، ایس سی/ایس ٹی صنعت کاروں اور اسٹارٹ اپس کی شراکت داری بھی بڑھی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں جی ای ایم کے ذریعے خواتین صنعت کاروں سے 315 کروڑ روپے، ایس سی/ایس ٹی صنعت کاروں سے 41 کروڑ روپے اور اسٹارٹ اپس سے 405 کروڑ روپے کی خریداری کی گئی۔ریکھا گپتا نے کہا کہ جی ای ایم کے ذریعے خریداری کا پورا عمل آن لائن ہونے سے شفافیت، مسابقت اور رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ پلیٹ فارم پر براہ راست خریداری، ایل-1 خریداری، بولی، ریورس نیلامی، آن لائن آرڈر، فروخت کنندگان کی جانچ، آن لائن بل و ادائیگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی بے ضابطگیوں کی شناخت جیسی سہولتیں دستیاب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں جی ای ایم سے متعلق 65 سے زیادہ تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں 3,600 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ حکومت کا مقصد جی ای ایم کے استعمال کو مزید بڑھانا، قیمت اور معیار کی نگرانی، شکایات کا بروقت ازالہ، ادائیگی میں تاخیر ختم کرنا اور ایم ایس ایم ای کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan