
نئی دہلی، 11 اگست(ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو بہار کے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی سکیورٹی کے لیے ایک اضافی پرسنل سکیورٹی افسر (پی ایس او) فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس منوج جین کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اضافی پی ایس او کو پپو یادو کی سکیورٹی پر اس وقت تک تعینات رکھا جائے، جب تک مرکزی حکومت ان کی سکیورٹی کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کرلیتی۔سماعت کے دوران عدالت نے مرکز سے پپو یادو کی سکیورٹی بڑھانے کو کہا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے وکیل آشیش دکشت نے بتایا کہ سکیورٹی بڑھانے سے متعلق پپو یادو کی درخواست پر حکومت غور کر رہی ہے اور عبوری اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔عدالت نے کہا کہ پپو یادو ایک رکن پارلیمنٹ ہیں اور حکومت کو ان کی سکیورٹی بڑھانی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان پر ہونے والا حملہ من گھڑت تھا۔بعد ازاں مرکز نے عدالت کو بتایا کہ پپو یادو کی سکیورٹی بڑھانے کی درخواست پر تین ہفتوں کے اندر فیصلہ کرلیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت نے ایک اضافی پی ایس او تعینات کرنے کا حکم دیا۔سماعت کے دوران پپو یادو کے وکیل شادان فراست نے کہا کہ رام مندر چڑھاوا چوری میں مبینہ بے ضابطگی کے معاملے پر پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے کے بعد سے پپو یادو کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔پپو یادو نے الزام لگایا ہے کہ یکم اگست کو انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی اور قتل کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس کے بعد ان کی رکن پارلیمنٹ اہلیہ کی رہائش گاہ کے باہر بھیڑ جمع ہوگئی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ اس وقت پپو یادو بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے 2 اگست کو پولیس میں شکایت درج کرائی اور الیکٹرانک شواہد بھی فراہم کیے۔ اسی روز اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران ان پر چپل پھینکی گئی اور مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔پپو یادو نے اپنی عرضی میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لے کر پورے ملک میں ان کی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت دی جائے۔ فی الحال انہیں بہار میں وائی پلس (Y+) زمرے کی سکیورٹی حاصل ہے۔یادو کا کہنا ہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد انہوں نے ملک بھر میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے وزارت داخلہ کو تحریری درخواست دی، لیکن ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan