
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ وزیر اعلی ریکھا گپتا نے منگل کو اکشردھام مندر میں منعقدہ 'اسپریچول ایند ہیریٹیج ٹورزم کنکلیو-2026' میں دہلی کے چار روحانی اور ثقافتی ورثے کے سیاحتی سرکٹس کا آغاز کیا۔
اس موقع پر روحانی گرو سدگرو جگگی واسودیو موجود تھے۔ ان چار سرکٹس کے ذریعے دہلی کے مختلف حصوں میں واقع مذہبی، روحانی، ثقافتی اور تاریخی مقامات کو سفری تجربے کے طور پر جوڑا گیا ہے۔
دہلی کی روح-سرکٹ 1: گوردوارہ بنگلہ صاحب، سیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل، اگرسین کی باو¿لی، لوٹس ٹیمپل، اکشردھام ٹیمپل کو اس سرکٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ سرکٹ دہلی کے روحانی تنوع اور ثقافتی ورثے کو ایک ساتھ تجربہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دہلی کا ورثہ-سرکٹ 2: اس سرکٹ میں برلا مندر، جھنڈے والان ماتا مندر، جنتر منتر، یوگمایا مندر، جگن ناتھ مندر شامل ہیں۔ یہ سرکٹ دہلی کے مذہبی اور تاریخی ورثے کی متنوع جہتوں کو ظاہر کرتا ہے۔
دہلی کی مقدس ہم آہنگی-سرکٹ 3: قدیم ہنومان مندر، دگمبر جین لال مندر، امبیڈکر میموریل، پرانا قلعہ، حضرت نظام الدین کو اس سرکٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ سرکٹ دہلی کی کثیر مذہبی اور جامع ثقافت کے ساتھ ساتھ شہر کے تاریخی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔
دہلی کی بازگشت-سرکٹ 4: اس سرکٹ میں گوردوارہ رکاب گنج صاحب، بدھسٹ ٹیمپل، چرچ آف ریڈیمپشن، مہرولی آرکیالوجیکل پارک، چھترپور ٹیمپل، لنگا بھیروی سنیدھنم شامل ہیں۔ یہ سرکٹ دہلی کے مذہبی مقامات، آثار قدیمہ کے ورثے اور روحانی روایات کو ایک جامع سفری تجربے میں جوڑتا ہے۔
کانفرنس، جس کا موضوع 'دہلی: روحانیت، ورثہ اور تجربات کا دارالحکومت' ہے، کا مقصد دہلی کے روحانی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کو ملک اور دنیا کے سامنے ایک مربوط سیاحتی تجربے کی شکل میں پیش کرنا اور دارالحکومت کو 'ٹرانزٹ سٹی' سے 'منزل کے شہر' میں ترقی دینا ہے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ دہلی کو چند مشہور یادگاروں تک محدود رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ہندوستان کی متنوع ثقافت، روایت اور روحانی شعور کی ایک متحرک عکاسی ہے۔ اندرپرستھ سے لے کر مختلف تاریخی ادوار تک، دہلی نے ہندوستان کی تاریخ کا احاطہ کیا ہے اور دارالحکومت کے ہر علاقے کی اپنی کہانی، روایت اور ورثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی شناخت لال قلعہ، پرانا قلعہ اور ہمایوں کے مقبرے جیسی تاریخی یادگاروں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں اکشردھام جیسے عالمی معیار کے روحانی اور تعمیراتی مقامات کے ساتھ ساتھ مندروں، گرودواروں، گرجا گھروں، مساجد، بدھ مت اور جین مزارات کی ایک بھرپور روایت ہے۔ دہلی کی سب سے بڑی خوبصورتی تنوع میں اتحاد ہے۔ ملک کی تقریبا ہر ریاست کے لوگ دہلی میں رہتے ہیں اور یہاں اپنی ثقافت، روایات اور تہواروں کو زندہ رکھتے ہیں۔ گجرات کا گربا، مہاراشٹر کا گنیش چترتھی، آسام کا بیہو، جنوبی ہندوستان کی ثقافتی روایات اور شمالی ہندوستان کے تہوار دہلی میں پورے ملک کی ثقافت کو اکٹھا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی ہندوستان کی ثقافتی اور روحانی عکاسی کا زندہ مجسمہ ہے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ ان سرکٹس کا مقصد صرف مختلف سیاحتی مقامات کو جوڑنا نہیں ہے، بلکہ دہلی کو ایک مکمل سیاحتی تجربے کے طور پر ترقی دینا ہے۔ سیاح دہلی کی روحانیت، تاریخ، فن تعمیر، ثقافت، کھانوں، لوک روایات اور متنوع عقائد کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ آج پوری دنیا ہندوستانی روحانیت، یوگا، امن اور اندرونی توازن کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ ہندوستان کی روحانی روایت کی عالمی قبولیت بھی دہلی کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ جس طرح لوگ کاشی وشوناتھ، مہاکال اور ملک کے دیگر بڑے روحانی مقامات کا دورہ کرنے کے لیے سفر کرتے ہیں، اسی طرح دہلی کے روحانی اور مذہبی مقامات کو بھی ملک اور دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے اہم پرکشش مقامات کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ روحانی ادارے، ہوٹل اور مہمان نوازی کی صنعت، ٹور آپریٹرز، مقامی کاروبار، ورثے کی تنظیمیں، ماہرین، مواد تخلیق کار، ٹریول انفلوئنسرز اور میڈیا کا بھی دہلی کی سیاحت کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ دہلی کی مثبت کہانیوں، ثقافت، روحانیت اور ورثے کو ملک اور دنیا تک پہنچانے میں اپنا تعاون دیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی