
بیڑ، 11 اگست (ہ س) بڑھتے جرائم اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے باعث بیڑ ضلع جیل میں قیدیوں کی تعداد مقررہ گنجائش سے دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ جیل میں صرف 161 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، جبکہ اس وقت 350 سے زائد قیدی موجود ہیں۔ گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی ہونے کے باعث رہائش، صحت، صفائی اور سکیورٹی کے مسائل سنگین ہوگئے ہیں، جبکہ جیل انتظامیہ پر بھی غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے چند روز قبل 60 قیدیوں کو لاتور جیل منتقل کیا گیا۔بیڑ ضلع جیل کی مجموعی گنجائش 161 قیدیوں کی ہے، جن میں 144 مرد اور 17 خواتین شامل ہیں۔ تاہم گزشتہ دس برسوں کے دوران جرائم اور قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باوجود جیل کی گنجائش میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ موجودہ قیدیوں میں قتل، عصمت دری، پوکسو اور مارپیٹ جیسے سنگین جرائم کے ملزمان بھی شامل ہیں۔جیل میں سب سے زیادہ تعداد زیر سماعت قیدیوں کی ہے۔ ان افراد کے خلاف عدالتوں میں مقدمات جاری ہیں، لیکن ابھی فیصلہ نہیں ہوا اور انہیں ضمانت بھی نہیں ملی۔ مقدمات کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کے باعث زیر سماعت قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس سے جیل میں گنجائش کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔قیدیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث پینے کے پانی، صفائی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ محدود عملے کی وجہ سے انتظامی اور سکیورٹی اہلکاروں پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ جیل کی اصل گنجائش کے مطابق صرف 50 ملازمین کی اسامیاں منظور شدہ ہیں، جبکہ موجودہ قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے سکیورٹی اور دیگر انتظامات کے لیے کم از کم 125 ملازمین کی فوری ضرورت ہے۔
بیڑ ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ راجارام چاندنے نے جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل 60 قیدیوں کو لاتور منتقل کیا گیا تھا، اس کے باوجود فی الحال جیل میں 350 سے زائد قیدی موجود ہیں۔ ان کے مطابق قیدیوں کی زیادہ تعداد کے باعث انتظامیہ پر دباؤ ضرور ہے، تاہم سکیورٹی کے ساتھ دیگر ضروری خدمات اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے