
امرتسر، 11 اگست (ہ س)۔ امرتسر میں کسان تنظیموں کی طرف سے 11 اگست کو مجوزہ ریل روکو تحریک کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین ایکتا سنگھرش کے ریاستی صدر پلویندر سنگھ ماہل نے بتایا کہ کسانوں نے سیلاب متاثرین کے لیے معاوضہ اور 2024 میں ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے سمیت مختلف مطالبات پر دباؤ ڈالنے کے لیے آج دوپہر 12 بجے ریل گاڑیوں کا چکّہ جام کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا۔ ماہل نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایس ایس پی، ڈی آئی جی، پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سمیت انتظامی حکام کے ساتھ میٹنگیں جاری ہیں۔ کسانوں کا بنیادی مطالبہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو جلد از جلد معاوضہ جاری کرنے کا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کو ایک سال گزر جانے کے باوجود بہت سے متاثرہ خاندانوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایس ایس پی کے دفتر میں ایک میٹنگ کے دوران انتظامیہ نے کسان رہنماؤں کو یقین دلایا کہ سیلاب متاثرین کو معاوضے کی تقسیم کا عمل آج سے شروع ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی حکام کسانوں سے رابطہ کر رہے ہیں اور 2024 کے ژالہ باری سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے کے لیے بینک اکاونٹ کی معلومات جمع کر رہے ہیں۔ ماہل نے کہا کہ حکومت کے ان دو اہم مطالبات پر اتفاق کے بعد کسان تنظیموں نے فی الحال ریل روکو تحریک کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی سطح کے دیگر مطالبات کو حل کرنے کے لیے چنڈی گڑھ میں وزیر زراعت کے ساتھ میٹنگ کی جائے گی۔
ماہل کے مطابق پنجاب کے 13 سے 14 اضلاع کے کسان مجوزہ احتجاج کے لیے امرتسر پہنچنے والے تھے۔ حکومت کی طرف سے دو اہم مطالبات پر اتفاق کے بعد، ریاستی اور ضلع سطح کے کسان رہنماؤں کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ ہوئی، جس میں احتجاج کو ملتوی کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا۔
امرتسر کے ایس ایس پی کنول پریت سنگھ چہل نے بتایا کہ ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور سول انتظامیہ کے افسران کے درمیان کسان رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ کسانوں کے مطالبات متعلقہ محکموں اور وزارتوں کو تحریری طور پر بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مطالبات پر تبادلہ خیال کے لیے 15 اگست کے بعد دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ ایس ایس پی کے مطابق معاوضے کی ادائیگیوں کی ایک قابل ذکر تعداد پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ جن کسانوں کا معاوضہ ابھی باقی ہے ،ان کی فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں اور انہیں بھی جلد معاوضہ مل جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد