لداخ میں پشمینہ بکری پالنے والے 1200 سے زائد افراد کو 1.10 کروڑ روپے کی رقم فراہم کی گئی
جموں, 10 اگست (ہ س)۔ مشرقی لداخ کے سو موریری میں منعقدہ چانگ تھانگ خانہ بدوش میلے کے دوران پشمینہ بکری پالنے والے 1200 سے زائد افراد کو 1.10 کروڑ روپے کی ترغیبی رقم فراہم کی گئی۔ میلے کا مقصد چانگپا خانہ بدوش برادری کی صدیوں پرانی ثقافت، روایتی طرز
Ladakh


جموں, 10 اگست (ہ س)۔ مشرقی لداخ کے سو موریری میں منعقدہ چانگ تھانگ خانہ بدوش میلے کے دوران پشمینہ بکری پالنے والے 1200 سے زائد افراد کو 1.10 کروڑ روپے کی ترغیبی رقم فراہم کی گئی۔ میلے کا مقصد چانگپا خانہ بدوش برادری کی صدیوں پرانی ثقافت، روایتی طرز زندگی اور پشمینہ کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔

میلے کے پہلے روز لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے پشمینہ بکری پالنے والوں میں ترغیبی رقم تقسیم کی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں سیاحوں اور مقامی لوگوں نے شرکت کی اور چانگپا برادری کی روایتی زندگی، مقامی دستکاری اور ثقافتی ورثے سے روشناس ہوئے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پشمینہ لداخ کی محض ایک پیداوار نہیں بلکہ خطے کی صدیوں پرانی شناخت اور ثقافتی وراثت ہے۔ انہوں نے پشمینہ پالنے والوں پر زور دیا کہ وہ جدید اور سائنسی طریقوں کو اپنائیں تاکہ فی بکری خام پشمینہ کی اوسط پیداوار موجودہ 200 گرام سے بڑھا کر 350 گرام تک پہنچائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پیداوار پر مبنی 25 فیصد ترغیبی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور رواں سال خام پشمینہ کی پیداوار بڑھ کر 19 میٹرک ٹن ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار 16 میٹرک ٹن تھی۔

پشمینہ پالنے والوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے آل چانگ تھانگ پشمینہ گروئرز مارکیٹنگ کوآپریٹو سوسائٹی کو 8 کروڑ روپے کا فنڈ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے پشمینہ پیدا کرنے والوں کو بہتر مالی معاونت ملے گی اور ان کی آمدنی میں استحکام آئے گا۔

انتظامیہ نے آئندہ تین برسوں میں پشمینہ بکریوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھا کر چار لاکھ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ میلے میں لداخ کی خانہ بدوش ثقافت، پشمینہ پیداوار، مقامی دستکاری، لوک روایات اور قدرتی ورثے کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں ثقافتی سیاحت اور پشمینہ پر مبنی روزگار کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande