خدمت خلق کے جذبہ کو پروان چڑھا رہا ہے سوامی وویکانند میڈیکل مشن اسپتال
ناگپور، یکم اگست (ہ س)۔ رام کرشن پرمہنس کے پیش کردہ نظریے ’’شیو بھاوے جیو سیوا‘‘(بندے کی خدمت خدا کی خدمت ہے)کو اپنا شعار بناتے ہوئے سوامی وویکانند میڈیکل مشن اسپتال گزشتہ 53 برس سے خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی کی ایک روشن مثال قائم کیے ہوئے ہے۔ ی
’بندے کی خدمت خدا کی خدمت ہے‘ اسی کو حقیقی شکل دے رہا ہے سوامی وویکانند میڈیکل مشن اسپتال


ناگپور، یکم اگست (ہ س)۔ رام کرشن پرمہنس کے پیش کردہ نظریے ’’شیو بھاوے جیو سیوا‘‘(بندے کی خدمت خدا کی خدمت ہے)کو اپنا شعار بناتے ہوئے سوامی وویکانند میڈیکل مشن اسپتال گزشتہ 53 برس سے خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی کی ایک روشن مثال قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ اسپتال غریب اور ضرورت مند مریضوں کو کم خرچ میں جدید طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

گئوشالہ سے شروع ہوئی خدمت، آج 100 بستروں پر مشتمل سپر اسپیشلٹی اسپتال میں تبدیل

سال 1974 میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے تیسرے سرسنگھ چالک بالاصاحب دیورس کی تحریک اور رہنمائی میں وویکانند میڈیکل مشن کی بنیاد رکھی گئی۔ اس وقت کھاپری کا علاقہ تقریباً جنگل پر مشتمل تھا، جہاں آر ایس ایس کے تربیتی کیمپ منعقد ہوتے تھے۔ جس مقام پر آج اسپتال کی جدید عمارت قائم ہے، وہاں اس وقت ایک گئوشالہ موجود تھی۔

بالاصاحب دیورس نے آس پاس کے تقریباً 150 دیہات کے لوگوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا خواب دیکھا اور اس کی ذمہ داری معروف معالج ڈاکٹر ناناصاحب سالپیکر کو سونپی۔ ابتدا میں ہفتے میں صرف ایک دن او پی ڈی چلتی تھی اور ڈاکٹروں کو ملنے والی سیمپل ادویات ضرورت مند مریضوں میں مفت تقسیم کی جاتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور او پی ڈی روزانہ چلنے لگی۔ ابتداصرف آنکھوںکے علاج کے شعبہ سے ہوئی تھی، لیکن آج یہ ادارہ تقریباً تمام اہم بیماریوں کے علاج کا مرکز بن چکا ہے۔

ایک ہی چھت نیچے جدید طبی سہولیات

میڈیکل مشن کے صدر ڈاکٹر دلیپ گپتا نے بتایا کہ گئوشالہ سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج 100 بستروں پر مشتمل جدید سپر اسپیشلٹی اسپتال بن چکا ہے۔ یہاں لیپروسکوپک سرجری، نیورو سرجری، جوائنٹ ری پلیسمنٹ، ریڑھ کی ہڈی کا علاج، فزیوتھراپی، لیزر تکنیک سے ویرکوج وینس کا علاج، سی ٹی اسکین، ڈائلیسس، بچوں کے دل کے آپریشن، اینجیوگرافی، اینجیوپلاسٹی، خواتین و زچگی کے امراض اور آنکھوں کے علاج کا شعبہ سمیت متعدد جدید طبی سہولیات دستیاب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال قومی شاہراہ پر واقع ہونے کے باعث سڑک حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کو فوری طور پر یہاں لایا جاتا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپتال میں 11 آئی سی یو بستروں سمیت جدید ایمرجنسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں نرسنگ کی تربیت بھی دی جاتی ہے، جہاں اس وقت دو سالہ کورس میں 40 طالبات زیرِ تربیت ہیں۔

سرکاری اسکیموں کے تحت غریبوں کا مفت علاج

اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میناکشی کھڈکّار نے بتایا کہ ای این ٹی، آرتھوپیڈکس، امراضِ چشم، امراضِ قلب، خواتین و زچگی سمیت تقریباً تمام اہم طبی خدمات ایک ہی کیمپس میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی مختلف صحت اسکیموں کے تحت معاشی طور پر کمزور مریضوں کا مفت علاج بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود یہ اسپتال ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو رہا ہے۔

عوامی تعاون سے ترقی کا سفر

ڈاکٹر دلیپ گپتا نے کہا کہ وویکانند میڈیکل مشن کی پوری ترقی عوامی تعاون اور رضاکاروں کی بے لوث خدمات کا نتیجہ ہے۔ آر ایس ایس کے رضاکاروں کی جانب سے چندہ جمع کرنے کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں اور اداروں نے بھی اسپتال کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسپتال کی خدمات سے متاثر ہو کر بیرونی اداروں نے بھی تعاون کیا۔ جاپان حکومت نے اسپتال کو جدید نیورو سرجری آلات فراہم کیے، جبکہ براہموس کی جانب سے بچوں کے لیے جدید وینٹی لیٹر مہیا کیا گیا۔

اب 200 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کی تیاری

ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ موجودہ عمارت سے متصل اراضی پر 200 بستروں پر مشتمل ایک نئے اور جدید اسپتال کی تعمیر کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ مجوزہ 11 منزلہ عمارت میں 60 آئی سی یو بیڈ، 9 جدید آپریشن تھیٹر اور روبوٹک سرجری یونٹ قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف ودربھ بلکہ آس پاس کی ریاستوں کے مریضوں کو بھی اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ بالاصاحب دیورس نے جس مقصد کے تحت غریب اور ضرورت مند افراد کو کم خرچ میں معیاری علاج فراہم کرنے کا خواب دیکھا تھا، سوامی وویکانند میڈیکل مشن آج بھی اسی خدمت کے عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے ’بندے کی خدمت خدا کی خدمت ہے‘ کے نظریے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ یہی جذبہ خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی اس ادارے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

ہندوستھان سماچار

----------

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande