نم آنکھوں اور پرسوز دعاؤں کے درمیان پیرزادہ رئیس میاں چشتی سپردِ خاک عالمی تصوف سوگوار، ہزاروں عقیدت مندوں، علماء، مشائخ اور سماجی شخصیات کی نمازِ جنازہ و تدفین میں شرکت
فتح پور سیکری، 9 جولائی (ہ س): صوفی دنیا کی ممتاز روحانی شخصیت اور عالمی شہرت یافتہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ رئیس میاں چشتی کو جمعرات کی شام نمازِ عصر کے بعد درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے احاطۂ مبارک میں ہزاروں سوگواروں کی
ضںآذآ


فتھ


فتح پور سیکری، 9 جولائی (ہ س): صوفی دنیا کی ممتاز روحانی شخصیت اور عالمی شہرت یافتہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ رئیس میاں چشتی کو جمعرات کی شام نمازِ عصر کے بعد درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے احاطۂ مبارک میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تدفین کے موقع پر غم و اندوہ کی کیفیت طاری رہی، ہر آنکھ اشک بار تھی اور مرحوم کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعائیں کی گئیں۔

نمازِ جنازہ اور تدفین میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء، مشائخ، سجادگان، مذہبی و سماجی رہنماؤں، عوامی نمائندوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ درگاہ شریف میں صبح سے ہی زائرین اور عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا جو اپنے محبوب روحانی پیشوا کی آخری زیارت اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے فتح پور سیکری پہنچے تھے۔

درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتی کے سجادہ نشین پیرزادہ ارشد فریدی کے مطابق پیرزادہ رئیس میاں چشتی کا انتقال بدھ، 8 جولائی 2026 کی شب تقریباً 11:30 بجے لکھنؤ کے ایرا میڈیکل کالج میں ہوا، جہاں وہ گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ علاج تھے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 88 برس تھی۔

پیرزادہ رئیس میاں چشتی حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی سولہویں نسل کے براہِ راست سجادہ نشین تھے۔ انہوں نے محض سات برس کی عمر میں سجادہ نشینی کی ذمہ داری سنبھالی اور مسلسل 81 برس تک اس عظیم روحانی منصب کو نہایت وقار، اخلاص اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ نبھایا۔ ان کی پوری زندگی تصوف کی تعلیمات، محبت، امن، بھائی چارے، انسان دوستی، قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کے لیے وقف رہی۔

ان کے دورِ سجادہ نشینی میں درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ پر دنیا بھر سے لاکھوں زائرین نے حاضری دی۔ تقریباً 20 ممالک کے سربراہانِ مملکت، شاہی خاندانوں کے افراد، عالمی شخصیات اور بھارت کے متعدد وزرائے اعظم و ممتاز رہنما بھی ان سے ملاقات اور درگاہ کی زیارت کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ وہ اپنی سادگی، اعلیٰ اخلاق، روحانی بصیرت اور ہر مذہب و طبقے کے لوگوں سے محبت آمیز برتاؤ کی وجہ سے بے حد مقبول تھے۔

پیرزادہ رئیس میاں چشتی کے انتقال کو صوفی روایت، ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور قومی یکجہتی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کا پیغامِ محبت، رواداری، اخوت اور انسانیت آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande