ایس آئی آر: حیدرآبادسمیت کئی علا قوں میں 50 فیصد فارمس بھی تقسیم نہیں ہوئے
حیدرآباد ،4 جولائی (ہ س)۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کردہ ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر)کا عمل اضلاع حیدرآباد ۔ رنگاریڈی اور میڑچل میں انتہائی سست روی اورانتظامی بد نظمی کا شکارہوگیا ہے ۔ایک گراؤنڈرپورٹ کے مطابق جہاں اضلاع نلگنڈہ ، کم
بشمول حیدرآباد کئی علا قوں میں 50 فیصد فارمس بھی تقسیم نہیں ہوئے


حیدرآباد ،4 جولائی (ہ س)۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کردہ ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر)کا عمل اضلاع حیدرآباد ۔ رنگاریڈی اور میڑچل میں انتہائی سست روی اورانتظامی بد نظمی کا شکارہوگیا ہے ۔ایک گراؤنڈرپورٹ کے مطابق جہاں اضلاع نلگنڈہ ، کمرم بھیم آصف آباد جیسے قریبی اضلاع میں فارمس تقسیم کاعمل 99 فیصد تک مکمل ہوچکاہے،وہیں اضلاع حیدرآباد،رنگاریڈی اورمیڑچل میں الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم تقسیم کرنے کی جومہلت دی گئی تھی وہ جمعہ کی شام ختم ہوجانے کے باوجود اب تک 50 فیصد کا نشانہ بھی پورا نہیں کیا جاسکاہے ۔اعداد و شمار کے مطابق ضلع میڑچل میں 44فیصد اور ضلع رنگاریڈی میں صرف44.6 فیصد فارمس تقسیم ہوپائے۔انگریزی فارمس کی پرنٹنگ میں تاخیرسے شہرحیدرآباد میں سروے کے آغازسے قبل جب سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی تھی ۔ مسلم آبادی اور شمالی ہندوستانی ووٹرس کی بڑی تعداد کے پیش نظرمطالبہ کیاگیاتھا کہ فارم انگریزی زبان میں بھی فراہم کئے جائیں ۔ ضلعی انتخابی عہدیداروں نے اس سلسلہ میں ریاستی الیکشن کمیشن سے باقاعدہ اجازت لے کرانگریزی فارم منظور کروالئے لیکن ان انگریزی فارمس کی پرنٹنگ اورسپلائی میں ہونے والی غیرمعمولی تاخیرنے پوری مہم کے شیڈول کو بگاڑکررکھ دیا جس کے نتیجہ میں پرانے شہرکے اسمبلی حلقوں یاقوت پورہ،چندرائن گٹہ کےعلاوہ شہرکے دیگر اسمبلی حلقوں کے کئی مقامات پرووٹرس کوفارمس دستیاب نہیں ہوئے ۔فارمس کی عدم موجودگی سے بی ایل اوز عوام کے نظروں سے اوجھل ہوگئے،کئی مقامات پرفارمس تاخیرسے پہنچے ہیں۔ ضلع رنگاریڈی میں جہاں 4062 پولنگ بوتھ اور47,36,669 ووٹرس موجودہیں وہاں بی ایل اوزکے گھرگھرنہ جانے کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ کئی بیایلاوزووٹرس کے گھروں پرجانے کی زحمت کرنے کی بجائے مقامی سیاسی قائدین کے گھروں،پارٹی دفاتراورکمیونٹی ہالس میں بیٹھ کرمن مانی طریقے سے فارم تقسیم کررہے ہیں جس کی وجہ سے عام شہری وہاں جانے سے کترارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ جن خاندانوں نے مکانات تبدیل کرلئے ہیں یا جو لوگ روزگار کیلئے دور گئے ہیں انہیں انومیریشن فارم نہیں مل پارہے ہیں،کیوکہ وہاں دروازہ بندملنے یا فیملی کے موجود نہ ہونے پر بی ایل اوز دوبارہ چکرنہیں لگارہے ہیں جس کے باعث پرانے شہرکے علاقوں میں ووٹرس کی شناخت انتظامیہ کیلئے ایک بڑاچیلنج بن چکی ہے۔ووٹرلسٹوں کی اس سنگین سست روی کو دیکھتے ہوئے جی ایچ ایم سی کمشنر و حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرآروی کرنن خود پچھلے دو دن سے فیلڈپرموجود ہیں ۔ انہوں نے زونل کمشنرس کو بھی میدان میں اترنے کی سخت ہدایت دی ہے جس کے بعد کئی علاقوں میں بی ایل اوز صبح 7 بجے سے ہی گھرگھرفارمس بانٹنا شروع کردیا ہے ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande