حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کےلئے سعودی عرب نے سمندرمیں بنایااتحاد ، 14 ممالک کی حمایت حاصل
ریاض، 31 جولائی (ہ س)۔ بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب ایک بین الاقوامی سمندری اتحاد قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کیے جانے والے حملوں
حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کےلئے سعودی عرب نے سمندرمیں بنایااتحاد ، 14 ممالک کی حمایت حاصل


ریاض، 31 جولائی (ہ س)۔

بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب ایک بین الاقوامی سمندری اتحاد قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کے مقابلے میں سمندری آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 14 ممالک نے اس تجویز کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان میں ترکیہ، پاکستان، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔ سعودی عرب نے اس اتحاد میں شرکت کے لیے تقریباً 50 ممالک کو دعوت دی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات بین الاقوامی بحری تجارت اور عالمی سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔حالیہ مہینوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کے اس اقدام کو سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کی اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande