
واشنگٹن، 31 جولائی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ پٹی میں موجود حماس اور دیگر مسلح گروپ ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہو گئے ہیں اور اس سلسلے میں ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے اس معاہدے پر عمل درآمد آگے بڑھے گا، اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے اپنا انخلا کرے گی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ یہ معاہدہ ان کے زیرِ قیادت ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی ثالثی میں طے پایا ہے، جسے غزہ کو اسلحہ اور عسکری سرگرمیوں سے پاک کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں مصر، قطر اور ترکیہ کی کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، اگر اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو اسے ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔ دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس نے معاہدے کی تمام شرائط سے اتفاق کر لیا ہے، تاہم اسرائیلی حکام اور مغربی سفارت کار اب بھی اس بات پر شکوک رکھتے ہیں کہ آیا حماس اپنے وعدوں پر عمل کرے گی یا نہیں۔
آزاد ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا ہے، جبکہ امریکی میڈیا اداروں Axios اور Associated Press نے بھی اس معاہدے سے متعلق امریکی حکام کے حوالے سے تفصیلات شائع کی ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکام اور متعدد مغربی سفارت کار اب بھی اس بات پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا حماس معاہدے کی تمام شرائط، خصوصاً مکمل غیر مسلح ہونے، پر عملی طور پر عمل کرے گی۔ اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی باضابطہ توثیق یا منظوری بھی تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ نفاذ کے طریق? کار اور وقت کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات باقی ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’آج بورڈ آف پیس، حماس اور غزہ کے دیگر تمام مسلح گروپوں کے مکمل غیر مسلح ہونے (ہتھیار ڈالنے) سے متعلق ایک تاریخی معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔ یہ مستقل امن اور سلامتی کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے امن بورڈ، مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالث کئی ماہ سے حماس کے ساتھ غزہ کو عسکری سرگرمیوں سے پاک کرنے اور مقامی انتظامیہ کے اختیارات ایک قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کے معاملے پر مذاکرات کر رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے پر اسرائیل نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا اور اس نے قطر اور ترکیہ پر حماس کے سیاسی کردار کو برقرار رکھنے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت حماس کو چھ سے آٹھ ماہ کے اندر اپنے بھاری اور ہلکے ہتھیار حوالے کرنا ہوں گے، ساتھ ہی سرنگوں کے نیٹ ورک، اسلحہ تیار کرنے والی تنصیبات اور اسلحہ کے گوداموں کے نقشے بھی قومی کمیٹی کے سپرد کرنے ہوں گے۔ تمام ہتھیار قومی کمیٹی کے کنٹرول میں رکھے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کی منظوری کے بعد ایک نئی فلسطینی پولیس فورس تشکیل دی جائے گی، جسے قومی کمیٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں تربیت دینے کے بعد تعینات کیا جائے گا۔ معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ حماس مخالف مسلح گروہوں سے بھی اسلحہ واپس لیا جائے گا، جبکہ حماس کے جنگجوؤں کو عام معافی دی جائے گی اور انہیں غزہ میں رہنے کی اجازت ہوگی۔
مذاکرات سے وابستہ دو ذرائع کے مطابق قطر، ترکیہ اور بالخصوص مصر نے معاہدے پر دستخط کرانے کے لیے حماس پر بھرپور دباؤ ڈالا۔ مصر کے انٹیلی جنس سربراہ حسن رشاد نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا، جن کے حماس کے سیاسی شعبے کے نئے سربراہ خلیل الحیہ کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے ایران کی اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ایران کے حالیہ دورے کے دوران حماس کے وفد نے آئی آر جی سی کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی، جنہوں نے حماس کو جلد بازی میں معاہدہ نہ کرنے اور مزید وقت لینے کا مشورہ دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مزید لکھا، ’’یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے۔ یہ نہ صرف مستقل امن اور سلامتی کی جانب ایک بڑا قدم ہے بلکہ غزہ میں ایک نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ بھی ہموار کرے گا، جو ہمارے بورڈ آف پیس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ اسرائیل کو مکمل سلامتی فراہم کی جائے گی اور غزہ کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس بھی تشکیل دی جائے گی، جو نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ اور اس کے پڑوسی علاقوں کی سلامتی کو یقینی بنائے گی۔ ٹرمپ نے مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں اور اپنی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک محنت سے یہ تاریخی کامیابی ممکن ہوئی۔
انہوں نے آخر میں کہا، ’’سات اکتوبر کے بعد غزہ سے پیدا ہونے والے خطرات کو دوبارہ جنم لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں غزہ بالآخر ایک ایسی نئی فلسطینی حکومت کے سپرد ہوگا جو اپنے عوام کی خدمت کرے گی۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan