
ریاض ،30جولائی (ہ س )۔
سعودی عرب اور شام کے درمیان جاری نئے تنازعہ کے دوران امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بعد سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی ہے۔
العربیہ اردو ڈاٹ کام نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات سے باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ملاقاتوں کا مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے پہلے خالد بن سلمان نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی وزیرِ دفاع نے امریکی نائب صدر کو بتایا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاو¿ں نے سعودی بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر حملے کر کے سرخ لکیر عبور کی تھی جس کی وجہ سے سعودی عرب کو جواب دینا پڑا۔
انہوں نے زور دیا کہ عراق میں کی گئی کارروائی کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں تاہم مملکت اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔میڈیا رپورٹوںکے مطابق شہزادہ خالد نے جے ڈی وینس سے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں جبکہ سعودی عرب کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے کیونکہ یہ زیادہ سود مند راستہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے عراق میں سخت ردِعمل کے ذریعے ایران نواز حوثی گروپ کو بھی واضح پیغام دیا کہ وہ مملکت کے خلاف اسی نوعیت کے حملوں سے باز رہے، تاہم سعودی وزیرِ دفاع نے امریکی نائب صدر کو یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس مرحلے پر امریکہ کی براہِ راست فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں، جبکہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ