
۔سینٹ کام نے کہا- مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار
۔آئی آر جی سی نے کہا- بوشہر صوبے کے تین شہر واشنگٹن کے حملوں سے بری طرح متاثر ، اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا
تہران/واشنگٹن/قاہرہ/کویت سٹی، 30 جولائی (ہ س)۔ اردن میں حملے کے بعد ایران پر کی گئی شدید بمباری پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ( آئی آر جی سی ) نے آج دو پہر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ حملہ آور سے فوری بدلہ لیا جائے گا۔ ایران نے اعتراف کیا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والے امریکی فضائی حملوں میں صوبہ بوشہر کے تین شہر بری طرح متاثر ہوئے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران کا واحد ایٹمی بجلی گھر صوبہ بوشہر میں واقع ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹ کام ) نے ایران پر فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
الجزیرہ، ایکسیوس، تسنیم، آئی آر آئی بی، فارس، گلف نیوز، عرب نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹوں کے مطابق، سینٹ کام نے ایکس پر کہا کہ ایران پر فضائی حملے کل اردن میں امریکی افواج پر کیے گئے میزائل حملے کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی فوج نے آئی آر جی سی کے درجنوں اہداف کو تباہ کر دیا، جن میں فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور حفاظتی مقامات اور سمندری صلاحیتیں شامل ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہ ے کہ اس کے حملوں کا مقصد امریکی افواج، تجارتی جہاز رانی اور پڑوسی خلیجی ممالک کو ایران اور اس کے پراکسی اتحادیوں کی طرف سے لاحق خطرات سے بچانا تھا۔
سینٹ کام نے کہا کہ آئی آر جی سی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر ایران سے بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ کمانڈ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں 50,000 سے زیادہ امریکی فوجی مہلک ہتھیاروں سے کسی بھی صورت حال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایران کے جزیرہ قشم پر حکام کے مطابق امریکی فوج نے جمعرات کی صبح ایک فضائی حملہ کیا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 50 منٹ پر تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ایک میزائل خلیج فارس کے اسٹریٹجک جزیرے کے رہائشی علاقے پر گرا۔ صوبہ ہرمزگان میں سیکورٹی امور کے ڈپٹی گورنر جنرل نے تصدیق کی کہ امریکہ نے صبح 4 بجے ایک ساتھ قشم پر کئی کروز میزائل داغے، آئی آر جی سی نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ اس کی فضائیہ نے بدھ کی صبح اردن میں امریکی فوجی کمانڈ سینٹر اور ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اطلاع دی ہے کہ امریکی میزائلوں نے بوشہر کے تین شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔ بوشہر کے گورنر کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ فضائی حملے بوشہر، جام اور خرمز کے آس پاس کے علاقوں میں کیے گئے۔ ملک کا واحد جوہری پاور پلانٹ ابھی تک محفوظ ہے۔ فارس خبر رساں ایجنسی نے آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”حملہ آور کو آج سزا دی جائے گی۔“ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے راتوں رات ایران پر شدید حملے کیے ہیں، جس سے قشم، کیش، بندر عباس، آبادان اور بوشہر میں زبردست دھماکے ہوئے۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی علاقہ ہے اور اس کی بحریہ کا آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول ہے۔ کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس دوران ، کویت کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ ملک کے شمالی حصے میں ایک چینی کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے میں ایک ملازم ہلاک ہو گیا۔ میجر جنرل سعود عبدالعزیز العتیبی نے کہا کہ حملے سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ العتیبی نے کہا کہ مسلح افواج ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران سے فوری طور پر لڑائی بند کرنے اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔سکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں کہا، ”تازہ ترین تنازعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، سکریٹری جنرل کا خیال ہے کہ اگر دونوں فریق مذاکرات کی طرف واپس نہیں آتے تو تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔ حالیہ گھنٹوں میں ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے“۔ سکریٹری جنرل نے پاکستان، قطر اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک سے فوری پہل کرنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد