
تہران/واشنگٹن، 30 جولائی (ہ س)۔ اردن میں امریکی بیس پر حملہ کرنا ایران کو بھاری پڑ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آج ایران میں فضائی حملہ کیا ہے۔ کئی شہروں میں شدید بمباری کی گئی ہے۔ سینٹ کام نے تصدیق کی کہ ایران نے اردن میں اس کے فوجی ٹھکانے پر بیلسٹک میزائل داغے۔ تمام میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔
سی بی ایس نیوز، ایکسیوس اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سینٹ کام نے کہا کہ میزائل ایرانی علاقے سے داغے گئے۔ اسے ایران کا پہلا براہِ راست بیلسٹک میزائل حملہ بتایا گیا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکہ نے سفارتی بات چیت کے لیے ایران کے خلاف حملہ روک دیا تھا۔ اردن حملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
اس سے پہلے امریکی اور سعودی فوج نے منگل کے روز دیر رات عراق میں سرگرم ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں کو نشانہ بناتے ہوئے مشترکہ فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے کم از کم 20 جنگجو مارے گئے۔ یہ مشترکہ فوجی کارروائی تب ہوئی جب سعودی عرب نے کہا کہ ایئر ڈیفنس سسٹم نے ملک کے مشرقی صوبے میں واقع تیل کے ٹھکانوں کی طرف بھیجے گئے کئی ڈرونز کو کامیابی کے ساتھ مار گرایا۔ سعودی عرب نے ان حملوں کی کوشش کے لیے عراق میں موجود ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
یہ فوجی حملے صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاوس میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے فوری بعد شروع ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماوں کے درمیان بات چیت بنیادی طور پر ایران سے متعلق علاقائی حکمتِ عملی پر مرکوز رہی۔ اس دوران ایک برطانوی بحری سلامتی کی فرم نے کہا کہ مصر کی ایک بندرگاہ پر ڈرون حملوں سے قدرتی گیس لے جانے والے دو جہازوں میں آگ لگ گئی۔ امریکہ نے حملے شروع کرنے کے ساتھ ہی ایران کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایسی آٹھ تنظیموں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا جن پرآبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرنے کے منصوبے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔
امریکی حملوں کے بعد قشم جزیرے، کیش، بندر عباس، آبادان اور بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عراق میں مشترکہ امریکی-سعودی حملوں میں چار ایرانی مشیر بھی مارے گئے۔ قشم جزیرے پر حملے کے بعد کئی لوگ ملبے کے نیچے دب گئے۔ اس کی تصدیق تسنیم خبر رساں ایجنسی نے کی ہے۔ کئی ماہرین نے کہا کہ ایران کے جنوب میں کئی مقامات پر کروز میزائل سے حملہ کیا گیا ہے۔ قشم جزیرے میں الیکٹریکل گرڈ پر میزائل حملے کے باعث کچھ وقت کے لیے بجلی کی سپلائی روک دی گئی۔ تسنیم کے مطابق، آج صبح امریکی لڑاکا طیاروں نے قشم جزیرے کے اوپر پرواز کی اور جزیرے پر کئی مقامات پر میزائل داغے۔
ایران کے سرکاری نشریا تی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، قشم جزیرے میں ایک رہائشی عمارت پر امریکی حملے کے بعد لوگ ملبے میں دب گئے ہیں۔ ہرمزگان صوبے کے ڈپٹی گورنر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ تسنیم کے مطابق، فارس صوبے میں امریکی فوج نے کازرون شہر کے بیرونی علاقے میں ایک جگہ کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج نے جنوب مغربی خوزستان صوبے کے اہواز میں کئی مقامات پر حملے کیے ہیں۔ اس سے شہر کے کچھ حصوں میں بجلی گل ہو گئی۔ شہر میں کم از کم سات مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔ صوبے کے شادگان، اروند کنار اور آبادان شہر دھماکوں سے دہل گئے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن