
حیدرآباد ،3 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی(ٹی جی آرای آراے)نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگرکوئی خریدارکئی سال بعد اپنے پلاٹ پرموجود چٹانوں،جھاڑیوں یا قدرتی طورپراگنے والے درختوں کی صفائی کا مطالبہ کرے تواس کے لیے بلڈرکو ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ یہ فیصلہ گوپی شیٹی سرینواس کی جانب سے دائرکی گئی ایک شکایت پرسنایا گیا۔ شکایت گزارنے سال 2018 میں میڈچل-ملکاجگری ضلع کے دیویریامزل گاؤں میں واقع ایک رہائشی پلاٹ خریداتھا۔ ان کا الزام تھا کہ پلاٹ میں بجلی کی بنیادی سہولت دستیاب نہیں تھی،جبکہ چٹانوں،جھاڑیوں اوردرختوں کی موجودگی کے باعث وہاں گھرکی تعمیرممکن نہیں ہورہی تھی۔ سماعت کے دوران بلڈرکمپنیوں نے مؤقف اختیارکیا کہ خریدارنے پلاٹ خریدنے سے قبل خوداس کا معائنہ کیاتھااور اسی حالت میں اسے قبول کیا تھا۔ کمپنیوں نے یہ بھی کہا کہ پلاٹ کا قبضہ رجسٹری کے وقت ہی خریدار کے حوالے کردیاگیاتھا،جبکہ شکایت تقریباً سات برس بعد درج کی گئی،اس لیے اس دوران پیداہونے والی قدرتی صورتحال کے لیے بلڈرکوذمہ دارنہیں ٹھہرایاجا سکتا۔ تمام ریکارڈاورشواہد کاجائزہ لینے کے بعد ٹی جی آرای آراے نے اپنے فیصلے میں کہاکہ جائیداد خریدنے سے پہلے اس کا معائنہ کرنا خریدار کی ذمہ داری ہے۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ کئی برس بعد قدرتی طور پر اگنے والے درختوں، جھاڑیوں یا دیگر نباتات کی صفائی پلاٹ کے مالک کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ بلڈر کی۔ اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ متعلقہ رہائشی منصوبے کو حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ایم ڈی اے) کی جانب سے حتمی منظوری حاصل ہوچکی ہے،جواس بات کا ثبوت ہے کہ منصوبہ قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا تھا۔ تاہم ٹی جی آرای آراے نے بجلی کی فراہمی کوہررہائشی کالونی کی بنیادی سہولت قراردیتے ہوئے بلڈرکوہدایت دی کہ اگرمنصوبے میں مطلوبہ الیکٹریکل ٹرانسفارمرتاحال نصب نہیں کیاگیاہے تواسے 45 دن کے اندر نصب کیاجائے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا کہ ہدایت پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ریئل اسٹیٹ(ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ)ایکٹ، 2016 کی دفعہ 63 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق