
تلنگانہ کابینہ میں موسی ریجووینیشن پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کو منظوریحیدرآباد ،3 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ کابینہ نے شدیدمخالفت کے باوجود موسی ریجووینیشن پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کومنظوری دے دی ہے۔اس مرحلے کے تحت تقریباً 21 کلومیٹرطویل علاقے میں ترقیاتی کام انجام دئیے جائیں گے، جن پرمجموعی طورپر7,345 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں حمایت ساگراورعثمان ساگر سے موسی دریا کے باپو گھاٹ تک کے علاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔ منصوبے کی مؤثرنگرانی اورعمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے147 نئی سرکاری آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق مزیدعملہ بھی تعینات کیاجاسکے گا۔کابینہ اجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ریونیووزیرنے بتایاکہ ریاستی حکومت نے وی بی-گرام جی اسکیم کوقبول کرلیاہے، تاہم اس اسکیم کی بعض شرائط پرحکومت کواعتراضات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انہی شرائط کے سلسلے میں ریاستی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم فیصلے کے تحت کابینہ نے اعلان کیاکہ ریاست کے سرکاری تعلیمی اداروں میں بارہویں جماعت تک کے طلبہ کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ اساتذہ، لیکچررزاوردیگرملازمین کوبھی دوپہرکامفت کھانا،دودھ اورہلکے ناشتے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کابینہ نے ٹمزہاسپٹلوں اورورنگل سپر اسپیشلٹی ہاسپٹل کے لیے مجموعی طورپر6,278 نئی آسامیوں کی منظوری دی ہے۔ ان تقرریوں میں سنت نگر،ایل بی نگراورالوال کے ٹمزہاسپٹل بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعلی ریلیف فنڈ کے تحت علاج کے لیے جاری کیے جانے والے لیٹرآف کریڈٹ(ایل اوسی) کی منظوری کے عمل کوبھی مزید آسان بنانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ کابینہ نے ریاست میں بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے مقصد سے مختلف مقامات پرسرکاری گوداموں کی تعمیرکے لیے اراضی کی منظوری بھی دی۔ اس کے تحت ورنگل کے بولی کنٹہ میں 50ایکڑاوررنگاریڈی کے کاکرلاپہاڑمیں 10 ایکڑ زمین اسٹیٹ ویئرہاؤسنگ کارپوریشن کے حوالے کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق