وزیر خزانہ نے فرانسیسی کمپنیوں کو’وکست بھارت ‘ میں شراکت دار بننے کے لئے مدعو کیا
۔سیتا رمن نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے فرانسیسی کاروباریوں اور سرمایہ کاروں کو”وکست بھارت 2047“ کے سفر میں ہندوستان کے ساتھ شراکت داری
Sitharaman-invites-French-firms


۔سیتا رمن نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے

نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے فرانسیسی کاروباریوں اور سرمایہ کاروں کو”وکست بھارت 2047“ کے سفر میں ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کرنے کے لئے مدعو کیا۔ انہوں نے ہندوستان-فرانس اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے اور دونوں ممالک کی مشترکہ خوشحالی کے لئے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مرکزی وزیر خزانہ نے یہ بات جمعرات کو پیرس میں منعقدہ ہندوستان-فرانس بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ٹیکنالوجی، اختراع، توانائی اور ڈیجیٹل ترقی کے میدان میں مل کر کام کر رہے ہیں۔ سیتا رمن نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے فرانسیسی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ صحت کی دیکھ بھال، دواسازی اور بائیو ٹیکنالوجی میں شراکت داری کے امکانات کو تلاش کریں تاکہ لائف سائنسز، ویکسین، فعال دواسازی کے اجزاء( اے پی آئی )، طبی تحقیق، درست علاج اور ڈیجیٹل صحت میں دونوں ممالک کی تکمیلی طاقتوں کا فائدہ اٹھایا کرصحت خدمات، دواسازی اور بایو ٹیکنالوجی میں شراکت داری کے امکانات کو تلاش کرنے کا پتہ لگانے کی اپیل کی تاکہ مضبوط صحت خدمات کی کی قدر کو مستحکم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ سیتا رمن نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس اے آئی کے میدان میں قابل اعتماد شراکت دار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں تقریباً ایک ہزار فرانسیسی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ ہندوستان کے مالیاتی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے نرملا سیتارامن نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی خدمات مراکز اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے ) ایک بڑے عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ جون 2026 تک 1,200 سے زائد ادارے اس کے ساتھ رجسٹرڈ تھے، جب کہ بینکنگ اثاثے 111 ارب امریکی ڈالر اور مجموعی بینکنگ لین دین 176 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینکنگ، ٹریزری مینجمنٹ، لیزنگ، گلوبل کمپیٹینس سینٹرز (جی سی سی)، ری انشورنس اور پائیدار فائنانس جیسے شعبوں میں مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں قابل اعتماد شراکت دار ہیں اور قابل اعتماد اے آئی ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے دائرہ کار کو بڑھا سکتے ہیں۔ سیتارامن نے کہا کہ آدھار، یو پی آئی، ڈیجی لاکر، او این ڈی سی اور انڈیا اسٹیک جیسے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے چلنے والی ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت دنیا میں ہونے والے حقیقی وقت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً نصف حصہ سنبھالتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande