
سلی گوڑی، 03 جولائی (ہ س): وزیراعلیٰ کے شمالی بنگال کے دورے کے دوران، سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے جمعہ کو سلی گوڑی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔
انہوں نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور بڑھتی مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام عوام پر بوجھ ڈال کر بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈالر کے مقابلے روپے کی گرتی ہوئی قدر اور روزمرہ استعمال کی اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
محمد سلیم نے مڈ ڈے میل میں سویابین کے استعمال سے متعلق مرکزی حکومت کی پالیسی پر بھی سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے ملک بھر میں لاگو کی جانے والی ”بلڈوزر پالیسی“ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کے نام پر محنت کش لوگوں کی روزی روٹی چھینی جارہی ہے۔
انہوں نے شمالی بنگال میں بند چائے کے باغات کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہزاروں مزدوروں کو روزگار ملے گا۔ سلیم نے حکومت سے اس سمت میں فوری ٹھوس قدم اٹھانے کی اپیل کی۔
تاہم انہوں نے نئے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کے شمالی بنگال کے دورے کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کے مسائل سننے کے لیے علاقے کا باقاعدگی سے دورہ کیا جانا چاہیے۔
ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے دورے زیادہ تر رسمی ہی رہے اور ان کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔
سلیم نے ترنمول کے دور حکومت میں تعلیم کے شعبے میں مبینہ بدعنوانی سمیت مختلف مسائل پر وائٹ پیپر جاری کرنے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی