
توہم پرستی کے خاتمے کے قانون پر مؤثر عمل درآمد کی ہدایتپونے، 3 جولائی (ہ س)۔ پونے ڈویژن کی کمشنر شیتل تیلی اُگلے نے کہا ہے کہ جادو ٹونے اور توہم پرستی کے خلاف قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تعداد میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم معاشرے سے پرانی رسموں، توہمات اور غیر سائنسی عقائد کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے مسلسل اور منظم کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔ وہ جادو ٹونا مخالف قانون پر مؤثر عمل درآمد کے لیے تشکیل دی گئی ڈویژنل کمیٹی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔ اجلاس میں کمیٹی کی رکن سیکریٹری اور محکمہ سماجی بہبود کی علاقائی ڈپٹی کمشنر وندنا کوچورے، پونے ضلع کے اسسٹنٹ کمشنر وشال لونڈھے، جبکہ پونے، ستارا، سولہ پور، کولہاپور اور سانگلی کے ضلع کلکٹروں، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور قبائلی ترقی محکمہ کے ایڈیشنل کمشنروں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔شیتل تیلی اُگلے نے کہا کہ اس قانون کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے نئے اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مقابلوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ تک اس قانون کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے، جبکہ خصوصاً قبائلی علاقوں کے اسکولوں میں آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ کم عمری سے ہی سائنسی سوچ کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے مقدمات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور سماجی تنظیموں، فلاحی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ عوامی بیداری کی مہم زیادہ مؤثر بن سکے۔ کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلع سطح کی کمیٹیوں کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔ ان کے مطابق اگر تمام متعلقہ محکمے اور ادارے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں تو جادو ٹونا اور توہم پرستی کے خلاف قانون پر مزید مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔اجلاس کے دوران جادو ٹونا مخالف قانون کے تحت درج مقدمات، دستیاب سرکاری گرانٹس، مختلف اضلاع میں درج جرائم کی تعداد اور قانون پر عمل درآمد کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے