
حیدرآباد ،3 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ کے انسدادِ بدعنوانی بیورو(اے سی بی) نے سینکی ریڈی بھیم ریڈی،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی)،جواس وقت پولیس کمپیوٹرسروسز(پی سی ایس)،حیدرآباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں،کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کامقدمہ درج کیا ہے۔ اے سی بی کا الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران بدعنوانی اور مشتبہ ذرائع سے اپنی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے جمع کیے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد اے سی بی حکام نے آج بیک وقت ڈی ایس پی کی رہائش گاہ اوران کے رشتہ داروں، دوستوں،مبینہ بے نامی افراداورقریبی ساتھیوں سے وابستہ 15 دیگرمقامات پرچھاپے مارے۔ چھاپوں کے دوران حکام کوبڑی تعداد میں غیرمنقولہ جائیدادوں سے متعلق دستاویزات ملیں، جن میں ابراہیم باغ کے ویسیلا میڈوزمیں ایک ولا، ٹیلی کام نگرمیں جی2 رہائشی مکان بمعہ پینٹ ہاؤز اورایک فلیٹ، گچی باؤلی میں ایک فلیٹ، منی کنڈہ میں ایک تجارتی کمپلیکس میں حصہ، منی کنڈہ مری چیٹوجنکشن کے قریب تجارتی جگہ، ٹیلاپورمیں دوفلیٹس،حیدرآباد، پٹن چیرو،ناگول اورمومن پیٹ میں متعدد کھلے پلاٹس،سنگاریڈی، وقارآباد، کرناٹک اوربنگلورو کے قریب دیوناہلی میں زرعی اراضی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایم/ایس شری رگویندرراک سینڈ منرلزمیں 75لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے دستاویزات بھی برآمد ہوئے۔ اے سی بی کے مطابق چھاپوں کے دوران مچنتالا گاؤں میں زرعی زمین سمیت 20 سے زائدجائیدادوں سے متعلق دستاویزات ضبط کیے گئے۔ اے سی بی نے ڈی ایس پی کی رہائش گاہ سے تقریباً 3.60 لاکھ روپے نقداوران کے مبینہ بے نامی شخص کے گھراسے مزید40لاکھ روپے نقدبرآمد کیے۔ اس کے علاوہ تقریباًدو کلوگرام سونے کے زیورات، 20 کلو گرام چاندی کے سامان اورتقریباً 19.91 لاکھ روپے کے بینک ڈپازٹس بھی ضبط کیے گئے۔ اے سی بی کا کہنا ہے کہ ضبط کی گئی غیرمنقولہ جائیدادوں کی موجودہ مارکیٹ قیمت ان کی رجسٹرڈ قیمت سے کئی گنازیادہ ہوسکتی ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق