
حیدرآباد، 28 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جعلی کال سینٹر کے ذریعے امریکی شہریوں سے سائبر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں مرکزی ملزم وکاس کمار نمار عرف مسٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ نمار ملک کے مختلف شہروں سے چلنے والے ایک منظم سائبر فراڈ نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ تھا، جو خود کو تکنیکی معاونت (ٹیکنیکل سپورٹ) کا ملازم ظاہر کرکے امریکی شہریوں کو اپنے جال میں پھنساتا تھا۔
ای ڈی کے مطابق ملزم کو پیر کے روز گرفتار کیا گیا۔ منگل کو اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ ایجنسی اب اس معاملے میں ملوث دیگر ملزمان اور مالی لین دین اور بین الاقوامی نیٹ ورک کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق وکاس کمار نمار نے حیدرآباد میں ایک جعلی کال سینٹر قائم کیا تھا۔ یہاں سے تربیت یافتہ ملازمین امریکی شہریوں کو فون کرتے تھے اور خود کو معروف تکنیکی کمپنیوں کا ملازم ظاہر کرکے ان سے رابطہ کرتے تھے۔ اس کے بعد کمپیوٹر یا دیگر ڈیجیٹل آلات میں تکنیکی خرابی، وائرس کے حملے یا سیکیورٹی سے متعلق مسائل کا بہانہ بنا کر متاثرین کو اعتماد میں لیا جاتا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر متاثرین کو ڈرا دھمکا کر یا گمراہ کرکے ان سے بھاری رقم وصول کی جاتی تھی۔
ای ڈی نے سال 2023 میں مادھاپور پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت تحقیقات شروع کی تھیں۔ تحقیقات کے دوران ایجنسی نے مشتبہ بینک کھاتوں، بیرونِ ملک فنڈ ٹرانسفر اور مالی لین دین کا تجزیہ کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن سے اشارہ ملتا ہے کہ اس گروہ نے امریکی شہریوں کو دھمکا کر اور دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے جمع کیے اور بعد میں اس رقم کو مختلف ذرائع سے قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
ای ڈی کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وکاس کمار نمار حیدرآباد، وشاکھاپٹنم، لکھنؤ سمیت ملک کے کئی شہروں میں سائبر کال سینٹر چلا رہا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس نے وی سی سولیوشنز کے نام سے کئی کال سینٹر قائم کیے تھے۔ ان اداروں کے بینک کھاتوں کی جانچ میں بڑی مقدار میں نقد رقم جمع ہونے اور مشتبہ مالی سرگرمیوں کے شواہد ملے ہیں۔ ایجنسی اب ان کھاتوں سے وابستہ مالی لین دین اور فائدہ اٹھانے والوں کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
تحقیقات کے دوران ای ڈی یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ اس نیٹ ورک سے ملک اور بیرونِ ملک کون کون سے افراد وابستہ تھے، دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم کو کن ذرائع سے منتقل کیا گیا، اور آیا اس پورے نیٹ ورک میں دیگر کمپنیوں یا افراد کا بھی کوئی کردار تھا یا نہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی جاری رہے گی اور تحقیقات کے دائرے میں آنے والے دیگر ملزمان کے خلاف بھی قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد