
رام اللہ،26جولائی(ہ س)۔مغربی کنارے میں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان ایک بار پھر پرتشدد جھڑپیں سامنے آئی ہیں، جہاں مختلف علاقوں میں پتھراؤ، تصادم اور سکیورٹی کارروائیوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ یہ تازہ واقعات ایک روز قبل ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد پیش آئے ہیں، جنہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش مزید بڑھا دی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کے روز جنوبی مغربی کنارے میں سوسیا نامی اسرائیلی بستی کے قریب فلسطینیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک فلسطینی نوجوان نے مبینہ طور پر ایک اسرائیلی شہری سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی، جس کے بعد موقع پر موجود افراد نے ہوائی فائرنگ کی۔فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پتھراؤ کے نتیجے میں ایک اسرائیلی شہری زخمی ہوا، جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کرتے ہوئے متعدد چیک پوسٹیں قائم کی گئیں اور مبینہ حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب فلسطینی حکام نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔یہ واقعہ ایک دن قبل شمالی مغربی کنارے کے گاؤں تلّ میں ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد پیش آیا، جہاں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان تصادم میں دو اسرائیلی اور چار فلسطینی جان سے گئے تھے۔ ہفتے کے روز چاروں فلسطینیوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے باعث تقریباً روزانہ کشیدگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مشرقی القدس کو چھوڑ کر مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں، جبکہ پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار مختلف بستیوں میں مقیم ہیں، جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی فائرنگ سے کم از کم 1,097 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں حالات بدستور انتہائی کشیدہ ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan