
وارانسی، 26 جولائی (ہ س)۔ اتر پردیش کے وارانسی میں بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے قدیم ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور آثار قدیمہ کے شعبہ کے طالب علم سریجن سنگھ کو اٹلی کی یونیورسٹی آف بولونیا میں پی ایچ ڈی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ وہ ہندوستان میں پلائسٹوسین دورکے فوسلز کے بائیو مالیکیولر اسٹڈی پر تحقیق کریں گے۔
اس تحقیق سے ہندوستان میں پلیسٹوسین دور کے حیوانات کی تقسیم، ان کے ارتقاءاور اس دوران رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں اہم سائنسی معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔ یہ مطالعہ قدیم حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تاریخ کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ جانکاری بی ایچ یو کے تعلقات عامہ کے افسر نے اتوار کو دی۔
انہوں نے بتایا کہ سریجن سنگھ نے سال 2025 میں بی ایچ یو کے قدیم ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور آثار قدیمہ کے شعبہ سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اپنے انتخاب سے قبل وہ شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جوز ٹام رافیل کی رہنمائی میں اپنی تحقیق کی تیاری کر رہے تھے۔
شعبہ کے سربراہ پروفیسر مہیش پرساد اہیروار نے سریجن کے انتخاب پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف بولونیا جو 11ویں صدی میں قائم ہوئی تھی، دنیا کی قدیم ترین اور باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اسے محکمہ اور بی ایچ یو کے لیے قابل فخر کامیابی قرار دیا۔
پروفیسر اہیروار نے یہ بھی بتایا کہ بی ایچ یو اور یونیورسٹی آف بولونیاکے درمیان ایک تعلیمی تعاون (ایم او یو) کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اسے وائس چانسلر پروفیسر اجیت کمار چترویدی نے منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون دونوں اداروں کے درمیان تحقیقی اور علمی تبادلے کو ایک نئی تحریک فراہم کرے گا۔
شعبہ کے تمام اساتذہ اور محققین نے سرجن سنگھ کی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی