
پرولیا، 26 جولائی (ہ س) ۔
مغربی بنگال کے پرولیا ضلع میں پولیس نے ترنمول چھاتر پریشد (ٹی ایم سی پی) کے ضلع صدر کیرتی اچاریہ کو جبری وصولی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ یہ تازہ ترین گرفتاری ضلع میں مبینہ بھتہ خوری اور دھمکیوں کے خلاف جاری کریک ڈاو¿ن کے درمیان ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق سنجے باوری نامی ایک شخص نے ہفتہ کو پارا پولیس اسٹیشن میں کیرتی اچاریہ کے خلاف مبینہ طور پر بھتہ خوری اور دھمکیوں کی تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ تفتیش کے دوران کیرتی اچاریہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
پرولیا ضلع پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گرفتار ملزم کو اتوار کو رگھوناتھ پور عدالت میں پولیس حراست کی درخواست کے ساتھ پیش کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ پرولیا میں ملازمت فراہم کرنے کے نام پر مبینہ طور پر جبری وصولی اور دھوکہ دہی کے معاملات میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قبل ازیں پولیس نے پرولیا ضلع پریشد کے اسسٹنٹ چیئرمین سوجے بنرجی، ضلع اقلیتی سیل کے چیئرمین صدام حسین انصاری، ضلع یوتھ ترنمول کے صدر گورو سنگھ، اور ترنمول لیڈروں کے مبینہ قریبی ساتھی تشار اوستھی کو گرفتار کیا تھا۔ بعد میں بڑابازار علاقے میں ترنمول ورکرز یونین کے بلاک صدر چندن سنگھ مالا کو بھی اسی طرح کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اب ترنمول چھاتر پریشد کے ضلع صدر کیرتی اچاریہ کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس کیس نے نئی سیاسی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور شکایت میں عائد کئے گئے الزامات کے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ