
امراوتی ، 26 جولائی (ہ س) مہاراشٹر کے ضلع امراؤتی کے میل گھاٹ علاقے کی دھارنی تحصیل کے تیتامبا واقع سرکاری قبائلی آشرم اسکول میں مبینہ زہریلی غذا کے باعث 69 قبائلی طلبہ کی طبیعت خراب ہو گئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ سرکاری حکام نے اتوار کو بتایا کہ متاثرہ طلبہ کو رہائشی اسکول میں رات کا کھانا کھانے کے چند گھنٹوں بعد الٹی، دست، پیٹ میں شدید درد اور چکر آنے کی شکایت ہوئی۔
واقعہ ہفتہ کی دیر رات پیش آیا، جب متعدد طلبہ نے یکے بعد دیگرے طبیعت بگڑنے کی شکایت کی۔ اسکول انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام متاثرہ طلبہ کو دھارنی سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ حکام کے مطابق اسپتال میں داخل کیے گئے 69 طلبہ میں 50 طالبات اور 19 طلبہ شامل ہیں۔ ان میں سے 65 طلبہ صحت یاب ہونے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیے گئے، جبکہ 4 طلبہ اب بھی ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔ طبی حکام کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔
ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طلبہ کو فراہم کیا گیا کھانا قبائلی ترقی محکمہ کے مرکزی کچن، تیمبلی، سے سپلائی کیا گیا تھا۔ حکام کو شبہ ہے کہ آلودہ یا باسی غذا اس واقعے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے، تاہم اصل سبب کا تعین لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع انتظامیہ، محکمہ صحت اور قبائلی ترقی محکمہ کے اعلیٰ افسران اسکول پہنچ گئے۔ کھانے اور پینے کے پانی کے نمونے جمع کرکے فارنسک لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، جبکہ مرکزی کچن، خوراک کی تیاری، ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ خوراک کی تیاری، ذخیرہ، یا نقل و حمل میں کسی قسم کی غفلت برتی گئی تھی یا نہیں، اس کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعے کے بعد طلبہ کے والدین اور مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص خوراک فراہم کرنے والوں اور کھانے کے معیار کی نگرانی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی سرکاری قبائلی آشرم اسکولوں میں طلبہ کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور حفاظتی انتظامات مزید مؤثر بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
سرکاری قبائلی آشرم اسکول، تیتامبا، قبائلی ترقی محکمہ کے زیر انتظام ان رہائشی تعلیمی اداروں میں شامل ہے جہاں میل گھاٹ کے دور دراز قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو رہائش اور تعلیم کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تاحال اس واقعے کے سلسلے میں پولیس میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جبکہ مختلف محکمے مشترکہ طور پر پورے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے