اٹاوہ میں وزیر اعلیٰ یوگی سماجوادی پارٹی پر جم کر بر سے
اٹاوہ، 26 جولائی (ہ س)۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اٹاوہ پہنچ کر نمائش پنڈال میں عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ عوامی جلسے میں انہوں نے سماجوادی پارٹی پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو زمین سے جڑے ہوئے رہنما تھے اور
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ


اٹاوہ، 26 جولائی (ہ س)۔

اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اٹاوہ پہنچ کر نمائش پنڈال میں عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ عوامی جلسے میں انہوں نے سماجوادی پارٹی پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو زمین سے جڑے ہوئے رہنما تھے اور کسانوں نیز عوام کے لیے اچھا کام کرنے کا خواب دیکھتے تھے، لیکن چاچا-بھتیجے کے کنبہ پروری اور سیفئی کے سنڈیکیٹ نے ان کے خواب کو مٹی میں ملا دیا۔ ہر جگہ لوٹ مار اور یوپی کو بیمار ریاست بنا دیا تھا۔

اتوار کے روز ایس پی کے گڑھ اٹاوہ پہنچے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نمائش پنڈال میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے سے پہلے سرکاری اسکیموں کے مستفیدین کو چیک تقسیم کرنے کے بعد ضلع کو 604 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا تحفہ دیا۔ انہوں نے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا پیسہ تو پہلے بھی تھا لیکن سیفئی کا سنڈیکیٹ لوٹ مار کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ وہ لوگ غریبوں کے راشن پر ڈاکہ ڈال دیتے تھے، سرکاری نوکریاں تو پہلے بھی نکلتی تھیں لیکن چاچا-بھتیجے کی جوڑی لوٹ مار کرنے کے لیے نکل پڑتی تھی۔ رشوت لے کر نااہل نوجوانوں کو نوکری ملتی تھی۔ پہلے ترقی کا پیسہ قبرستان کی باونڈری وال بنانے کے لیے دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مندروں کی خوبصورتی کے لیے سماجوادی پارٹی کو فکر نہیں تھی۔ پہلے کانوڑ یاترا نہیں نکلنے دیتے تھے، رام نومی کے اہتمام کو روکتے تھے اور درگا پوجا کے پنڈال نہیں سجنے دیتے تھے۔ 2017 سے پہلے یوپی میں بیٹی اور تاجر محفوظ نہیں تھے۔ اتر پردیش کے لوگ اپنی بیٹی کو پڑھانے کے لیے دوسری ریاستوں میں رشتہ داری میں بھیج دیتے تھے، لیکن آج بیٹی اور تاجر دونوں محفوظ ہیں۔ غنڈوں اور مافیاوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ باہر سے تاجر سرمایہ کاری کرنے یوپی آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ترقی ہو رہی ہے، یوپی میں ایکسپریس وے کا جال بچھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو زمین سے جڑے ہوئے رہنما تھے اور کسانوں نیز عوام کے لیے کام کرنا چاہتے تھے، لیکن سیفئی کی کنبہ پروری اور موروثی سیاست والی چاچا-بھتیجے کی جوڑی نے ان کے خواب کو پورا نہیں ہونے دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande