
رجسٹرڈ اقلیتی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے سرٹیفکیٹ طلب نہ کرنے کی ہدایتممبئی ، 26 جولائی (ہ س) مہاراشٹر حکومت نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے رجسٹرڈ اقلیتی تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے اقلیتی طلبہ سے اب مائناریٹی سرٹیفکیٹ طلب نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ مہاراشٹر اسٹیٹ پنجابی ساہتیہ اکیڈمی کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقی کی جانب سے جاری رہنما ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے نوٹیفائیڈ اقلیتی تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلبہ کو مائناریٹی سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ یکم جولائی 2013 اور 10 جنوری 2017 کو جاری سرکاری احکامات کے مطابق نافذ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے نشاندہی کی کہ واضح احکامات کے باوجود بعض اقلیتی تعلیمی ادارے داخلے کے لیے مائناریٹی سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دے رہے تھے، جس کے باعث طلبہ اور ان کے والدین کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
مہاراشٹر اسٹیٹ پنجابی ساہتیہ اکیڈمی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے حکومت کے سامنے اٹھایا۔ محکمہ اقلیتی ترقی کی سکریٹری مادھوی کھوڑے چاورے نے اس مسئلے کو ایک اجلاس میں پیش کیا، جس کے بعد محکمہ نے نئی رہنما ہدایات جاری کر دیں۔ نئی ہدایات کے بعد ریاست بھر میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو داخلے کے دوران مائناریٹی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومت نے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کو اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ پنجابی ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار صدر بال ملکیت سنگھ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک انتظامی ہدایت نہیں بلکہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی کو یقین ہے کہ اب کسی بھی باصلاحیت طالب علم کو صرف مائناریٹی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے داخلے سے محروم نہیں کیا جائے گا اور اس فیصلے سے ریاست بھر کے ہزاروں اقلیتی طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے