
علی گڑھ، 20 جولائی (ہ س)۔
اتر پردیش کے وزیرِ سیاحت و ثقافت جے ویر سنگھ نے کہا ہے کہ ریاست میں سیاحتی اور مذہبی مقامات کی ترقی کے تمام منصوبوں میں عوامی سرمایہ کے مؤثر استعمال، معیار اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی منصوبے کی منظوری سے قبل اس کا زمینی معائنہ، عوامی افادیت اور ضرورت کا جائزہ لیا جائے گا۔ علی گڑھ میں مالی سال 2026-27 کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے 18 ڈویژنوں کے جائزہ مہم کا آغاز علی گڑھ ڈویژن سے کیا، جہاں علی گڑھ، کاس گنج، ایٹہ اور ہاتھرس کے سیاحتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام زیر التوا منصوبے نومبر 2026 تک مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اجلاس میں مذہبی مقامات پر پینے کے پانی، بیت الخلا، روشنی، کیو آر کوڈ معلوماتی نظام، پیدل راستے، لینڈ اسکیپنگ اور دیگر جدید سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
وزیر نے کہا کہ عوامی نمائندوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم رکھتے ہوئے سیاحت کے فروغ کے لیے شفاف، معیاری اور بروقت اقدامات کیے جائیں تاکہ اتر پردیش کو ملک کی نمایاں سیاحتی ریاست بنایا جا سکے۔اجلاس میں اراکینِ اسمبلی انیل پراشر، ٹھاکر رویندر پال سنگھ، پردیپ کمار، ستیہ پال سنگھ، ویریندر سنگھ رانا، وپن کمار ڈیوڈ، اراکینِ قانون ساز کونسل مانویندر پرتاپ سنگھ، پروفیسر طارق منصور، رشی پال سنگھ، ضلع پنچایت کی چیئرپرسن سری متی وجے سنگھ، میئر پرشانت سنگھل، بی جے پی شہر صدر انجینئر راجیو شرما، ٹھاکر شیوراج سنگھ، تمام چیف ڈیولپمنٹ آفیسرز (سی ڈی اوز)، اے ڈی اے کے سیکریٹری راہل وشوکرما، ایڈیشنل کمشنر اکھیلش کمار یادو سمیت محکمۂ سیاحت، اتر پردیش ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن، محکمۂ ثقافت اور مختلف عمل درآمد کرنے والے اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ