
جے پور، 20 جولائی (ہ س)۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں پیر کو دارالحکومت جے پور میں مختلف سماجی تنظیموں کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔ گاندھی سرکل پر مجوزہ پرامن احتجاج کی اجازت پولیس انتظامیہ نے دینے سے منع کر دیا اور نصب کئے گئے خیموں کو ہٹوا دیا۔ اس کے بعد مظاہرین نے سڑک کے کنارے اور بس اسٹاپ کے قریب کھڑے ہو کر نعرے بازی کی۔ انہوں نے سونم وانگچک کی حمایت میں مختلف نعرے لکھی تختیاں اٹھا رکھی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق، سمگرا سیوا سنستھان اور گاندھی وچار منچ سمیت کئی سماجی تنظیموں کے مشترکہ زیر اہتمام پیر کو گاندھی سرکل میں صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ایک پرامن احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ مظاہرے کے لیے خیمے بھی لگائے گئے تھے۔ تاہم، پولیس انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور خیموں کو ہٹوا دیا۔ اس کے بعد مظاہرین سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر اپنا احتجاج درج کرایا۔
مظاہرین نے مرکزی حکومت پر مظاہرین کے ساتھ بات چیت سے بچنے اور سونم وانگچک کے پرامن احتجاج کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں ہر شہری کو پرامن احتجاج اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق ہے اور حکومت کو مظاہرین کے ساتھ بامعنی بات چیت شروع کرنی چاہیے۔
سمگرا سیوا سنستھان کے سوائی سنگھ نے کہا کہ سونم وانگچک کی تحریک صرف لداخ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ جمہوری حقوق اور آئینی اقدار کے تحفظ کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اختلاف رائے کو دبانے کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرے۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور حکومت کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سونم وانگچک کے ساتھ جلد بامعنی بات چیت شروع کرے، جمہوری حقوق کا احترام کرے، پرامن نقل و حرکت پر غیر ضروری انتظامی پابندیاں نہ لگائے اور لداخ سے متعلق مفاد عامہ کے مسائل پر حساسیت کے ساتھ فیصلے کرے۔
گاندھی وچار منچ کے سنجے بافنا نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے دکھائے گئے سچائی اور عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پرامن انشن (بھوک ہڑتال) اور عوامی احتجاج کے دوران بھی مذاکرات نہیں کرے گی تو عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد کمزور ہو جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مذاکرات شروع کرے اور وانگچک کے مطالبات پر مثبت اقدام کرے۔
نوجوانوں کی نمائندہ پرشنسا مینا نے کہا کہ ملک کے نوجوان جمہوری حقوق اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل کے بارے میں تیزی سے آگاہ ہو رہے ہیں۔ سونم وانگچک نے ماحولیات، مقامی حقوق اور مفاد عامہ سے متعلق مسائل کو مسلسل اٹھایا ہے۔ حکومت ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور اسے دبانے کی بجائے پرامن احتجاج کے جذبے کو سمجھے۔
مظاہرے کے دوران سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے جمہوری حقوق کے تحفظ اور مکالمے کے کلچر کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پرامن طریقے سے اپنا احتجاج درج کرایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد