
علی گڑھ, 20 جولائی (ہ س)سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق مرکزی وزیر سلیم اقبال شیروانی کے صاحبزادے اور سپریم کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ سعد شیروانی کی پہلی مرتبہ علی گڑھ آمد نے ضلع کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ان کی آمد کو آئندہ اسمبلی انتخابات، خصوصاً کول اسمبلی حلقہ سے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث پارٹی کے اندر مختلف قسم کی سیاسی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔علی گڑھ پہنچنے پر سعد شیروانی کا مختلف مقامات پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ لیمن ٹری ہوٹل میں انہوں نے پارٹی کارکنان اور مقامی رہنماؤں سے ملاقات کر کے تنظیمی صورتحال اور علاقے کے سیاسی حالات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کارکنوں کو ہر ممکن تعاون اور مضبوط تنظیم کے لیے کام کرنے کا یقین بھی دلایا۔لیمن ٹری میں سماجوادی پارٹی کے سابق ترجمان سینئر لیڈر مجاہد قدوائی ،سینئر سماجوادی رہنما ظہورالعابدین عرف خاور شیروانی نے بھی سلیم اقبال شیروانی اور سعد شیروانی سے ملاقات کرکے علی گڑھ کی سیاسی صورت حال سے واقف کرایا اور علی گڑھ میں انکا استقبال کیا،بعد ازاں انہوں نے شہر کے متعدد سینئر سماجوادی لیڈران سے بھی ملاقات کی، جن میں تصور جمال کی رہائش گاہ گئے وہاں عشائیہ میں شریک ہوئے۔ اس دوران انہوں نے پارٹی کے ذمہ داران اور کارکنوں سے رائے لی اور مقامی سیاسی حالات کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی اسکے علاوہ امیر نشاں واقع مونسپل کمشنر نعیم احمد کی رہائش گاہ پہنچے جہاں کارکنان سے ملاقات کی، فیصل خان کی رہائش گاہ پہنچے ،استقبالیہ پروگرام میں ضلع صدر لکشمی دھنکر، سابق رکن پارلیمنٹ اور قومی سکریٹری یوگیندر سنگھ تومر سمیت پارٹی کے متعدد عہدیداران، بلدیاتی نمائندے اور کارکنان موجود رہے۔سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ کول اسمبلی حلقہ سے پہلے ہی سماجوادی پارٹی کے کئی مقامی رہنما اپنی دعویداری پیش کر چکے ہیں۔ ایسے میں اگر پارٹی بیرونِ ضلع سے کسی امیدوار کو میدان میں اتارتی ہے تو مقامی قیادت اور تنظیمی توازن برقرار رکھنا قیادت کے لیے ایک اہم چیلنج ہو سکتا ہے۔اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایڈووکیٹ سعد شیروانی علی گڑھ میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط بنانے اور مقامی کارکنوں و عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں، اور پارٹی قیادت آئندہ انتخابات کے لیے کس حکمت عملی کا انتخاب کرتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ