ناندیڑ میں سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاج، این سی پی شرد پوار گروپ کا حکومت کے خلاف مظاہرہ
ناندیڑ، 20 جولائی(ہ س)۔ ناندیڑ کے آئی ٹی آئی چوک میں مہاتما پھلے کے مجسمے کے سامنے سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شردچندر پوار دھڑے کی جانب سے ضلع کلکٹر کو مختلف مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت پی
POLITICS MAHA SONAM WANGCHUK PROTEST


ناندیڑ، 20 جولائی(ہ س)۔

ناندیڑ کے آئی ٹی آئی چوک میں مہاتما پھلے کے مجسمے کے سامنے سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شردچندر پوار دھڑے کی جانب سے ضلع کلکٹر کو مختلف مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت پیش کی گئی۔احتجاج کے دوران مقررین نے الزام عائد کیا کہ اپنے مطالبات کے لیے آئینی اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر اسی طرح لاٹھی چارج کیا گیا، جس طرح برطانوی دور حکومت میں آزادی کے متوالوں پر کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے رویے سے انگریز حکومت کو بھی شرمندہ کر دیا ہے اور پرامن احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرکے آمریت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی۔یادداشت میں کہا گیا کہ دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب نکالے گئے عظیم الشان مارچ کو ہر ممکن طریقے سے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت سڑکوں پر نکلنے والا عام آدمی ہوتا ہے اور حکومت کو جلد اس حقیقت کا احساس ہو جائے گا۔ مظاہرین نے کہا کہ سونم وانگچک نے اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل 20 دن تک بھوک ہڑتال کی، لیکن حکومت نے نہ صرف ان کے احتجاج کو نظر انداز کیا بلکہ انہیں آمرانہ انداز میں حراست میں بھی لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے عوام کو جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کا حق بھی نہیں دے رہی۔یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اب بھی ہوش کے ناخن لے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کی مبینہ ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر عہدے سے مستعفی کرے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande