ایران کے کئی شہروں میں امریکی حملے کے باعث دھماکے ، عراق میں ڈرون حملے میں امریکی فوجی ہلاک ، لبنان کے صدر واشنگٹن پہنچے
تہران/واشنگٹن، 20 جولائی (ہ س)۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مغربی ایشیا میں حالات انتہائی نازک ہو گئے ہیں۔ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عراق می
ایران کے کئی شہروں میں امریکی حملے کے باعث دھماکے ، عراق میں ڈرون حملے میں امریکی فوجی ہلاک ، لبنان کے صدر واشنگٹن پہنچے


تہران/واشنگٹن، 20 جولائی (ہ س)۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مغربی ایشیا میں حالات انتہائی نازک ہو گئے ہیں۔ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عراق میں ایک ڈرون حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ اسی دوران لبنان کے صدر اعلیٰ امریکی حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ ایران نے امریکہ پر اپنے دارخوین جوہری بجلی گھر پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

الجزیرہ، سی این این، سی بی ایس اور اے بی سی نیوز کی رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کی شام ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ شروع کیا۔ امریکی فوج نے مسلسل نویں رات فضائی حملے کیے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب عراق میں ایرانی ڈرون سے متعلق ایک واقعے میں ایک امریکی فوجی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران پر مزید فضائی حملے کیے۔ اسی دوران لبنان کے صدر کے دورۂ واشنگٹن نے بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔

سینٹ کام کے مطابق شمالی عراق میں مار گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کے دوران ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا، جبکہ ایک اور فوجی زخمی ہو گیا جس کا علاج جاری ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے تنازع کے بعد اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کے دعوے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کے جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں زیر تعمیر دارخوین جوہری بجلی گھر پر حملہ کیا ہے۔ یہ بجلی گھر دریائے کارون کے کنارے واقع ہے اور اسے استقلال یا کارون نیوکلیئر پاور پلانٹ بھی کہا جاتا ہے۔ ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایران کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً 3:40 بجے پیش آیا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد اس نے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر جوابی ڈرون حملہ کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق اتوار کو امریکہ نے خوزستان کے شہر آبادان کے نواحی علاقے پر میزائل حملہ بھی کیا، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اہواز شہر میں امریکہ کا ایک ایم کیو-9 ڈرون مار گرایا ہے۔ اس دعوے پر امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان واقعات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل نہ کرنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق امریکہ کی اولین ترجیح صرف یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

ادھر اقوام متحدہ سے وابستہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ اس نے دارخوین جوہری بجلی گھر پر حملے کی اطلاعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یہ منصوبہ ابھی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور آخری معائنے کے دوران وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا۔ آئی اے ای اے نے کہا کہ اس مبینہ حملے سے کسی قسم کے تابکاری خطرے کا امکان نہیں، تاہم ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے اطراف فوجی تحمل اختیار کرنے کی اپیل دہرائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آئی آر جی سی کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں دو جہاز بھی روک لیے۔ بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ جہاز امریکی حمایت کے ساتھ غیر محفوظ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بحریہ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران کی اجازت کے بغیر تیل، گیس یا کیمیائی کھاد کی ترسیل ممکن نہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اتوار کو خبردار کیا کہ دارخوین جوہری بجلی گھر پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔ یہ واقعہ شمالی عمان میں قمزار سے آٹھ ناٹیکل میل شمال مغرب میں پیش آیا۔ ابھی تک آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب بحرین میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اسے اطلاعات ملی ہیں کہ ایران دارالحکومت منامہ کے وسط میں بعض مخصوص مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں تمام امریکی شہریوں سے محتاط رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور سفارت خانے کی تازہ ترین رہنمائی پر نظر رکھنے کی اپیل کی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان لبنان کے صدر میشل عون واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے کی سلامتی اور علاقائی سیاست پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم سابق امریکی سفارت کار نبیل خوری کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع کم ہے۔ ان کے مطابق لبنان کی فوج کے ذریعے حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا ایک نہایت حساس معاملہ ہے اور اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے کوئی مفاہمت طے پا گئی تو مستقبل میں صورتحال بدل سکتی ہے، لیکن فی الحال اس کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande