
حیدرآباد،20 جولائی (ہ س)۔
ساتھی خاتون آئی پی ایس ٹرینی کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے زیرِتربیت آئی پی ایس افسرادے کرشناریڈی نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے حیدرآباد کے ایرہ گڈہ میں واقع ایک پرائیویٹ ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ادے کرشنا ریڈی کے خلاف ایک خاتون ٹرینی آئی پی ایس افسرنے جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
اسی دوران نیشنل پولیس اکیڈمی (این پی اے) کے حکام نے تحقیقات مکمل ہونے تک ادے کرشنا ریڈی کو عارضی طور پرمعطل کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہاسپٹل منتقل کیے جانے سے قبل ادے کرشنا ریڈی نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پرایک پیغام شیئرکرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیااوروہ خود کوبے قصورسمجھتے ہیں۔
تاحال پولیس اور نیشنل پولیس اکیڈمی کی جانب سے ادے کرشنا ریڈی کی صحت یا واقعے کی تفصیلات کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی سے متعلق مقدمہ اور محکمہ جاتی تحقیقات قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق