بیڑ کےسرکاری ماتا وبال اسپتال میں واٹرفلٹر صرف 10 دن میں بند، بنیادی سہولتوں پر سوالیہ نشان
بیڑ کےسرکاری ماتا وبال اسپتال میں واٹرفلٹر صرف 10 دن میں بند، بنیادی سہولتوں پر سوالیہ نشانبیڑ، 20 جولائی(ہ س)۔ بیڑ ضلع اسپتال میں بستروں کی کمی اورمریضوں کودرپیش مشکلات دور کرنے کے لیے تقریباً 24 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے 100 بستروں وال
HEALTH MAHA HOSPITAL WATER FILTERS


بیڑ کےسرکاری ماتا وبال اسپتال میں واٹرفلٹر صرف 10 دن میں بند، بنیادی سہولتوں پر سوالیہ نشانبیڑ، 20 جولائی(ہ س)۔ بیڑ ضلع اسپتال میں بستروں کی کمی اورمریضوں کودرپیش مشکلات دور کرنے کے لیے تقریباً 24 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے 100 بستروں والےماتا وبال اسپتال کا حال ہی میں افتتاح کے بعد مریضوں کی خدمت کے لیے شروع کیا گیا تھا، لیکن افتتاح کے صرف 10 دن بعد ہی اسپتال کی بنیادی سہولتوں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔اسپتال کا افتتاح ضلع کلکٹروویک جانسن، ضلع سرجن ڈاکٹر ستیش کمار سولنکے اورایڈیشنل ضلع سرجن ڈاکٹرناگیش چوہان نے کیا تھا۔ تاہم قلیل مدت میں ہی یہاں بنیادی سہولتوں کی ناقص دیکھ بھال کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ مریضوں اوران کے تیمارداروں کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے اسپتال کی ہر منزل کے انتظار گاہ میں واٹر فلٹر نصب کیے گئے تھے، لیکن اس وقت تمام واٹر فلٹر بند پڑے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو باہر سے بوتل بند پانی خریدنا پڑ رہا ہے، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔سماجی کارکن ڈاکٹر گنیش دھولے (لمبا گنیشکر) نے کہا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے نئے اسپتال میں افتتاح کے چند ہی دن بعد پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت کا بند ہو جانا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے اسپتال کی انتظامی کارکردگی اور بنیادی سہولتوں کی دیکھ بھال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی اسپتال کی نئی عمارت میں افتتاح سے پہلے چھت سے پانی رسنے کے باعث پی او پی گرنے کے واقعات پیش آئے تھے۔ اسی طرح لفٹیں بار بار خراب ہونے کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعض مواقع پر مریضوں کو کپڑے کی جھولی میں اٹھا کر اوپری منزلوں تک لے جانا پڑا تھا۔اب واٹرفلٹروں کے بھی بند ہو جانے کے بعد اسپتال میں بنیادی سہولتوں کی دیکھ بھال اور بروقت مرمت کے حوالے سے انتظامیہ کی کارکردگی ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ ڈاکٹر گنیش دھولے نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ فوری طور پر واٹر فلٹروں کو فعال کرے اور دیگر بنیادی سہولتوں کی مرمت و دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دے تاکہ نئے اسپتال میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شہریوں نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام فوری اقدامات کرتے ہوئے تمام سہولتوں کو بلا تعطل بحال کریں گے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande