مہاراشٹر میں اسکولی وین اور بسوں میں سی سی ٹی وی لازمی
مہاراشٹر میں اسکولی وین اور بسوں میں سی سی ٹی وی لازمی۔ حکومت نے تین ماہ کی مہلت دی، خلاف ورزی پر پرمٹ معطل یا منسوخ ہوگاممبئی ، 20 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست بھر میں طلبہ کی حفاظت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اسکولی بسوں، وینوں اور تعلی
EDUCATION MAHA SCHOOL BUS SAFETY RULES


مہاراشٹر میں اسکولی وین اور بسوں میں سی سی ٹی وی لازمی۔ حکومت نے تین ماہ کی مہلت دی، خلاف ورزی پر پرمٹ معطل یا منسوخ ہوگاممبئی ، 20 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست بھر میں طلبہ کی حفاظت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اسکولی بسوں، وینوں اور تعلیمی اداروں کی تمام گاڑیوں کے لیے نئے حفاظتی ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت ہر اسکولی گاڑی میں سی سی ٹی وی کیمرے، جی پی ایس پر مبنی وہیکل ٹریکنگ سسٹم، ایمرجنسی بٹن، تمام نشستوں پر سیٹ بیلٹ، آگ سے تحفظ کا نظام اور مخصوص جماعتوں کے طلبہ کے لیے خاتون معاون کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ حکومت نے ان تمام قواعد پر عمل درآمد کے لیے تین ماہ کی مہلت دی ہے، بصورت دیگر ٹرانسپورٹ محکمہ متعلقہ گاڑیوں کے پرمٹ معطل یا منسوخ کر سکے گا۔ریاستی حکومت نے مہاراشٹر موٹر وہیکل رولز 2011 میں ترمیم کرتے ہوئے طلبہ کی سلامتی سے متعلق متعدد نئی دفعات شامل کی ہیں۔ ان ترامیم کی حتمی سرکاری اطلاع 16 جولائی کو سرکاری گزٹ میں شائع کی گئی، جس کے ساتھ ہی یہ ضوابط نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر ریاست کی تمام اسکولی بسوں، وینوں اور تعلیمی اداروں کی گاڑیوں میں ان قواعد پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔نئے ضوابط کے مطابق ہر اسکولی گاڑی میں جی پی ایس پر مبنی وہیکل ٹریکنگ سسٹم، ایمرجنسی بٹن، آگ بجھانے کی حفاظتی سہولت، تمام نشستوں پر سیٹ بیلٹ، سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈیجیٹل سکیورٹی سسٹم نصب کرنا لازمی ہوگا۔ والدین اپنے موبائل فون کے ذریعے اسکول گاڑی کی نقل و حرکت براہ راست دیکھ سکیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ بھی دستیاب کرانی ہوگی۔ اس کے علاوہ کم از کم 30 دن تک ویڈیو ریکارڈ محفوظ رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکومت نے پری پرائمری سے پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے ہر سفر میں خاتون معاون یا مقررہ معاون عملہ موجود رکھنے کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ اسی طرح بس ڈرائیور، خاتون معاون اور دیگر عملے کی پولیس کے ذریعے سابقہ ریکارڈ کی جانچ، طبی معائنہ اور تحریری تقرری بھی لازمی ہوگی۔ نئے ضوابط کے تحت اسکول انتظامیہ کی ذمہ داریاں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ ہر طالب علم کے بس میں سوار ہونے اور اترنے کا روزانہ ریکارڈ رکھنا ضروری ہوگا۔ معذور اور خصوصی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے تربیت یافتہ معاونین اور مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی متعلقہ اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی۔اسکول ٹرانسپورٹ کمیٹی اس بات کی بھی نگرانی کرے گی کہ بسوں کا کرایہ علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ شرح کے مطابق ہی وصول کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ گاڑی مالکان کی شکایات کا ازالہ کرنے کے بعد اس کی سہ ماہی رپورٹ ضلع اسکولی بس تحفظ کمیٹی کو پیش کرنا بھی لازمی ہوگا۔ تعلیم محکمہ اور ٹرانسپورٹ محکمہ مشترکہ طور پر ریاست بھر میں اسکولی گاڑیوں کا باقاعدہ معائنہ کریں گے تاکہ طلبہ کی حفاظت سے متعلق تمام نئے ضوابط پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande