دہلی حکومت نے ’پریورتن‘ اسکیم کو منظوری دی ، پرانی کمرشل گاڑیوں کو تبدیل کرنے کے لیے پرکشش مراعات
نئی دہلی ، 20 جولائی (ہ س)۔ دہلی حکومت نے مرکزی حکومت کی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی تجویز کو منظوری دے دی ہے تاکہ دہلی میں پریورتن اسکیم کو لاگو کیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کے روز ایک ریلیز میں کہا کہ یہ اسکیم پرانے اور آ
دہلی حکومت نے ’پریورتن‘ اسکیم کو منظوری دی ، پرانی کمرشل گاڑیوں کو تبدیل کرنے کے لیے پرکشش مراعات


نئی دہلی ، 20 جولائی (ہ س)۔

دہلی حکومت نے مرکزی حکومت کی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی تجویز کو منظوری دے دی ہے تاکہ دہلی میں پریورتن اسکیم کو لاگو کیا جاسکے۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کے روز ایک ریلیز میں کہا کہ یہ اسکیم پرانے اور آلودگی پھیلانے والے ٹرکوں اور بسوں کو مرحلہ وار ختم کرنے اور ان کی جگہ بی ایس-6 گاڑیوں یا الیکٹرک گاڑیوںکے ساتھ شروع کی گئی تھی ، جو آلودگی کے سخت معیارات پر پورا اترتی ہیں ۔ دہلی حکومت کی کابینہ کی حالیہ میٹنگ میں اس کی منظوری دی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اسکیم دہلی-این سی آر میں پرانے اور انتہائی آلودگی پھیلانے والے ٹرکوں اور بسوں کو مرحلہ وار ختم کرنے اور ان کی جگہ بی ایس- VI، اس سے بھی زیادہ سخت اخراج معیارات کے مطابق، یا الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ تبدیل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس سے دارالحکومت کے صاف نقل و حمل کے نظام کو تقویت ملے گی اور تجارتی گاڑیوں کو جدید بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ فضائی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت، اگر کوئی گاڑی کا مالک اپنی بی ایس-IV یا اس سے کم لائٹ گڈز وہیکل (ایل جی وی) کو سکریپ کرتا ہے اور نئی الیکٹرک ایل جی وی خریدتا ہے، تو انہیں 10 سال کے لیے دہلی حکومت کی طرف سے 100 % موٹر وہیکل ٹیکس میں چھوٹ اور 100% رجسٹریشن فیس کی چھوٹ دی جائے گی۔ مزید برآں، وہ 5 % سود پر سبسڈی ، گاڑیاں بنانے والے (او ای ایم کی طرف سے %8 رعایت ، اور فیول واو¿چر یا ایندھن کے واو¿چر کی رعایتی قیمت کے برابر ایک یکمشت فائدہ بھی حاصل کریں گے۔ اگر نئی الیکٹرک گاڑی کے بجائے استعمال شدہ الیکٹرک گاڑی خریدی جاتی ہے، تو فائدہ اٹھانے والے کو 10 سال کے لیے موٹر وہیکل ٹیکس میں 50 فیصد چھوٹ ، 5فیصد سود پر سبسڈی، اور فیول واو¿چر کی رعایتی قیمت کے برابر ایک یکمشت فائدہ ملے گا۔

اسکیم کے تحت بی ایس- IV یا اس سے کم درمیانے درجے کی (ایم جی وی) اور بھاری سامان کی گاڑیاں (ایچ جی ویز) کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسکریپ شدہ گاڑیاں اور نئی بی ایس- VI گاڑیاں، جو اخراج کے سخت معیارات کی تعمیل کرتی ہیں، یا الیکٹرک گڈز گاڑیاں، 10 سال کے لیے 100فیصد موٹر وہیکل ٹیکس میں چھوٹ ، 100فیصد رجسٹریشن فیس کی چھوٹ ، 5فیصد سود کی سبسڈی ،او ای ایم سے 8فیصدیا ڈسکاو¿نٹ کا فائدہ حاصل کریں گی۔ فیول واو¿چر کی رعایتی قیمت کے برابر۔ اگر نئی گاڑی کے بجائے پرانی بی ایس-VI یا الیکٹرک گڈز گاڑی خریدی جاتی ہے تو 10 سال کے لیے 50 فیصد موٹر وہیکل ٹیکس چھوٹ ، 5فیصد سود پر سبسڈی، اور فیول واو¿چر کی رعایتی قیمت کے برابر ایک یکمشت فائدہ فراہم کیا جائے گا۔

چیف منسٹر نے کہا کہ اس اسکیم میں پرانی بی ایس-IV اور اس سے نیچے کی بسیں بھی شامل ہیں۔ ان بسوں کو صرف بی ایس-VI سی این جی یا الیکٹرک بسوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور ان کو بھی مال بردار گاڑیوں کی طرح تمام فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکیم کے تحت اسکریپ کی گئی اہل گاڑیوں کو ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التواءروڈ ٹیکس اور فٹنس جرمانے کی واجبات سے بھی ریلیف ملے گا۔

اس اسکیم کے تحت تبدیل کی گئی بی ایس- IV گاڑیوں کو لازمی طور پر ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسی گاڑیاںاین سی آر سے باہر واقع غیر این سی اے پی شہروں میں بھی فروخت کی جا سکتی ہیں۔ غیر این سی اے پی کا مطلب وہ شہر ہیں جو نیشنل کلین ایئر پروگرام (این سی اے پی) کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اسکیم سے دہلی-این سی آر میں تقریباً 2.07 لاکھ ٹرک اور بس مالکان کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ یہ بڑی تعداد میں پرانی اور انتہائی آلودگی پھیلانے والی تجارتی گاڑیوں کو صاف اور جدید گاڑیوں سے بدل دے گا ، اس طرح فضائی آلودگی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت صاف نقل و حمل کو فروغ دینے کے لئے پوری طرح پابند ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande