کھونٹی میں حادثہ: رتھ ہائی ٹینشن تار سے ٹکرایا، دو اسکولی طلبہ ہلاک، سات زخمی
کھونٹی، 20 جولائی (ہ س)۔ جھارکھنڈ کے کھونٹی ضلع کے تورپا تھانہ علاقے میں پیر کے روز ایک المناک حادثے میں دو اسکولی طلبہ بجلی سے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ سات دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ کوٹیگسیرا میں موسیباڑی کے قریب اس وقت پیش آیا جب کچھ طلبا ل
CHARIOT-CONTACT-HIGH-TENSION-WIRE-TWO-SCHOOL-STUDE


کھونٹی، 20 جولائی (ہ س)۔ جھارکھنڈ کے کھونٹی ضلع کے تورپا تھانہ علاقے میں پیر کے روز ایک المناک حادثے میں دو اسکولی طلبہ بجلی سے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ سات دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ کوٹیگسیرا میں موسیباڑی کے قریب اس وقت پیش آیا جب کچھ طلبا لنچ بریک کے دوران وہاں کھڑے ایک رتھ کو گھمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران رتھ کا اوپری حصہ 11 ہزار وولٹ کی ہائی ٹینشن پاور لائن سے ٹکرا گیا جس کی وجہ سے پورا رتھ کرنٹ کی زد میں آگیا اور وہاں موجود نو طالب علم جھلس گئے۔

مرنے والوں کی شناخت تورپا کے پیٹرول پمپ علاقے کے رہنے والے چندن کمار (16 سال) اور ٹوراٹولی کے رہنے والے تارکیشور مہاتو (15 سال) کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں کو تشویشناک حالت میں تورپا ریفرل اسپتال لے جایا گیا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے کھونٹی کے صدر اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ صدر اسپتال کے ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

زخمیوں میں ارمان عالم (16 سال، تورپا)، سوجے لوہرا (17 سال، سیسیرا)، نیلے ایکا، پنکج رام (16 سال)، روپیش کمار، گری راج یادو، اور کملیش گوپ شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کا تورپا ریفرل اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسکول میں دوپہر کے کھانے کا بریک چل رہا تھا۔۔ اس دوران کچھ طلباء اسکول کیمپس سے نکل کر موسی باڑی کے قریب گئے جہاں ایک رتھ کھڑا تھا۔ طلبا رتھ کو موڑنے یا آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تب ہی رتھ کا اوپری حصہ اوپر سے گزرنے والی 11,000 وولٹ کی ہائی ٹینشن پاور لائن کو چھو گیا ۔ اس سے رتھ میں سے ایک زوردار کرنٹ بہنے لگا اور اس کے رابطہ آنے والے تمام طالب علم بجلی سے جھلس گئے۔

واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ پر افراتفری مچ گئی۔ مقامی لوگوں نے فوری مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی تورپا ریفرل اسپتال میں اہل خانہ اور مقامی باشندوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔

اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی تفتیش شروع کردی۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا طالب علم لنچ بریک کے دوران خود ہی موسی باڑی پہنچے یا کسی نے انہیں رتھ کو کھینچنے یا دھکیلنے کے لیے بلایا۔ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ رتھ ہائی ٹینشن پاور لائن کے نیچے کیسے آ گیا اور کیا اس حادثہ میں کوئی لاپرواہی شامل تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ پورے واقعے کی نگرانی کرے گی اور زخمیوں کے مناسب علاج کو یقینی بنائے گی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande