کتابوں سے دوستی ہی نوجوانوں کی حقیقی ترقی کا راستہ: سندیپ کمار
علی گڑھ, 20 جولائی (ہ س)۔ معروف ماہرِ اطلاعات اور معاون ڈائریکٹر اطلاعات سندیپ کمار نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال خصوصاً نوجوانوں کی تعلیم، یکسوئی اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرت
سندیپ کمار


علی گڑھ, 20 جولائی (ہ س)۔

معروف ماہرِ اطلاعات اور معاون ڈائریکٹر اطلاعات سندیپ کمار نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال خصوصاً نوجوانوں کی تعلیم، یکسوئی اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو موبائل پر غیر ضروری وقت ضائع کرنے کے بجائے کتابوں سے رشتہ مضبوط کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی، مثبت سوچ، اخلاقی اقدار اور تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا بہترین وسیلہ ہیں۔ اسمارٹ فون کا محدود اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن مطالعے کی عادت کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

سندیپ کمار نے کہا کہ نوجوان اگر روزانہ کچھ وقت کتابوں کے مطالعے کے لیے مختص کریں، سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں اور لائبریریوں و کتاب میلوں سے وابستہ ہوں تو ان کی علمی اور فکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کا باشعور نوجوان اپنی توانائیاں علم حاصل کرنے میں صرف کرے تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو نکھار سکتا ہے بلکہ ملک و معاشرے کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فون ہمیں جوڑتا ہے، لیکن کتابیں ہماری شخصیت کو سنوارتی ہیں، اور یہی حقیقی ترقی کا راستہ ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande