
کولکاتا، 2 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال میں غیر قانونی در اندازی اور آبادیاتی تبدیلی کے معاملے پر ریاستی حکومت نے سخت موقف اپناتے ہوئے کئی اہم اقدامات اٹھانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے بتایا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ 2 جولائی کو نئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری سمیت سینئر افسران شرکت کریں گے اور وزیر اعلیٰ خود بھی موجود ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے رہنما خطوط کے مطابق مرکز اور ریاست اس مسئلہ پر مل کر کام کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے مرحلے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ 45 دنوں میں ضروری اراضی بارڈر سکیورٹی فورس کو منتقل کر دی گئی ہے اور 12 مقامات پر ہولڈنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ تقریباً 10,000 دراندازوں کو ان مراکز کے ذریعے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ملک بدر کیا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 1500 افراد اس وقت ان ہولڈنگ اسٹیشنوں پر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے تھانے بارڈر سیکورٹی فورس کے ساتھ مل کر مبینہ دراندازوں کی نشاندہی کر رہے ہیں اور انہیں جیل بھیجنے کے بجائے براہ راست ہولڈنگ اسٹیشنوں پر بھیج رہے ہیں جہاں سے انہیں قائم پروٹوکول کے مطابق ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ ووٹر فہرستوں سے نکالے گئے ناموں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ یکم اگست سے ڈیجیٹل ذرائع سے مردم شماری شروع ہوگی جس کے حتمی نتائج 28 فروری 2027 کو آدھی رات کو جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اصل اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد مبینہ غیر قانونی دراندازی کے خلاف مزید موثر کارروائی ممکن ہوگی اور ساری صورتحال واضح ہوجائے گی۔
دریں اثنا، آبادیاتی تبدیلی کا مطالعہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی جلد ہی مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں کا دورہ کرے گی۔ دورے سے پہلے، کمیٹی کے ارکان نے بدھ کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومتوں، انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک تفصیلی سوالنامہ تیار کیا گیا ہے۔ کمیٹی مختلف ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلی، مبینہ غیر قانونی امیگریشن اور اس کے سماجی اور اقتصادی اثرات کا جائزہ لے گی۔
غور طلب ہے کہ غیر قانونی دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی کا معاملہ مغربی بنگال میں طویل عرصے سے سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہ ایک بڑا انتخابی معاملہ تھا۔ چنانچہ نئی حکومت کے دور میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کا مجوزہ دورہ اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ میٹنگ کو سیاسی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد