
نئی دہلی، 02 جولائی (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے جمعرات کو راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر اجیت مادھو راو¿ گوپچڑے کی طرف سے شروع کی گئی ایم پی لیڈ فیلوشپ کے 40 شرکاءسے بات چیت کی۔ شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ حقیقی قیادت کی پہچان عہدے، طاقت یا اختیار سے نہیں ہوتی بلکہ سماجی خدمت سے ہوتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے طرز عمل میں عاجزی، دیانت اور دردمندی کو اپنائیں اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔ اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے کام کرے۔
نائب صدر جمہوریہ نے ملک کے اتحاد اور سالمیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ خطہ، زبان اور ذات پات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ثقافتی تنوع اس کی کمزوری نہیں ہے بلکہ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ہندوستان کی ترقی کے سفر کا تذکرہ
ہندوستان کی تاریخی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں ملک کو خوراک کے بحران کا سامنا تھا لیکن آج ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے غذائی اجناس برآمد کنندگان میں شامل ہے۔
انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ پچھلی نسلوں کی جدوجہد کو سمجھیں اور ان سے تحریک لیں اور ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے ایم پی لیڈ فیلوشپ کے 40 منتخب شرکاءکو مبارکباد دی، جنہیں 5000 سے زیادہ درخواست دہندگان میں سے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام نوجوانوں کو کلاس روم سے باہر حقیقی دنیا سے جوڑتا ہے اور ان کے خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور صلاحیت کے ساتھ مواقع بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کچھ مستقبل میں ملک کے اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ فیلوشپ ایک دو ماہ کا انٹرن شپ پروگرام ہے جسے ایم پی ڈاکٹر اجیت مادھو راو¿ گوپچڑے نے شروع کیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو حکمرانی، پالیسی سازی اور جمہوری عمل کے بارے میں عملی سمجھ دینا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی